روس اور ترکیہ کے صدور نے مشترکہ طور پر بھی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ ولادی میر پیوٹن اور طیب ایردوان نے یہ اظہار مذمت پیر کے روز فون پر تبادلہ خیال کے دوران کیا ہے۔
کریملن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر ایران کے خلاف اسرائیلی طاقت کے استعمال کی مذمت کے علاوہ اس جنگ کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر سخت تشویش ظاہر کی۔ جس میں اب تک بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے پورے علاقے پر طویل مدتی مضمرات بھی ہوں گے۔
دونوں رہنماؤں نے جنگی خاتمے اور متنازعہ امور کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کو بھی سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہی طے کیا جانا چاہیے۔
پیوٹن اور ایردوان نے اس موقع پر باہم رابطے میں رہنے سے اتفاق کیا اور کہا کہ دونوں رہنما گاہے گاہے آپس میں تبادلہ خیال کرتے رہیں گے۔
-
تازہ ترین: اسرائیل-ایران حملے،ایئرلائنز کی طرف سےشرقِ اوسطیٰ کے مقامات کےلیے پروازیں معطل
ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو شرقِ اوسط کے بعض ...
بين الاقوامى -
یہ "Barak Magen" کیا ہے جسے اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایرانی ڈرون گرانے کے لیے استعمال کیا !
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ " Barak Magen" فضائی دفاعی نظام ...
بين الاقوامى -
ایران-اسرائیل حملوں کے باعث پاکستان کی ایران سے متصل سرحد بند
پاکستان کا صرف "اخلاقی اور سفارتی یکجہتی" کا مظاہرہ
بين الاقوامى