اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ " Barak Magen" فضائی دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی ڈرون طیاروں کو روکا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان، اویخای ادرعی نے آج پیر کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "پہلی بار فضائی دفاعی نظام 'باراک میگن' اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے LRAD اعتراضی میزائل کا استعمال کیا گیا ہے"۔
ادرعی نے مزید کہا کہ "گزشتہ رات کے دوران، بحری جنگی بیڑے نے ایران سے چھوڑے گئے 8 ڈرون طیاروں کو تباہ کیا، اور اس کارروائی کے آغاز سے اب تک بحری میزائل بردار جہازوں کے ذریعے 25 ڈرون طیاروں کو روکا جا چکا ہے، جو اسرائیلی شہریوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔"
"باراک میگن" کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
یہ ایک جدید فضائی دفاعی نظام ہے جسے اسرائیلی ایرو اسپیس انڈسٹری نے تیار کیا ہے۔
اس نظام میں ایک کثیر المقاصد ریڈار شامل ہے جو مختلف فضائی خطرات کو دریافت کرنے، ہتھیاروں کے نظام کے مطابق انھیں درجہ بندی کرنے اور طویل فاصلے والے اعتراضی میزائل کے ذریعے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ اسرائیلی دفاعی ویب سائٹ پر بیان کیا گیا ہے۔
یہ نظام بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں، بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرون) اور دیگر خطرات سے نمٹنے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ "جب فوج ان دنوں مختلف فضائی خطرات سے بیک وقت، قریبی اور دور دراز محاذوں سے نمٹ رہی ہے، تو طویل فاصلے تک مار کرنے والے LRAD میزائل کا فعال استعمال بحریہ کی سمندری برتری کو مزید مضبوط بنائے گا۔"
#عاجل سلاح البحرية اعترض الليلة الماضية 8 قطع جوية مسيرة أطلقت من ايران؛ لأول مرة تم اعتراض مسيرة من خلال نظام الدفاع الجوي "البرق الدفاعي"
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) June 16, 2025
⭕️لأول مرة تم استخدام نظام الدفاع الجوي "البرق الدفاعي" وصاروخ الاعتراض طويل المدى LRAD.
صاروخ الاعتراض الذي تم وضعه على متن سفينة صواريخ… pic.twitter.com/g2UUq3XzDS
"چڑھتا ہوا شیر" آپریشن
یاد رہے کہ 13 جون سے اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف "چڑھتا ہوا شیر" کے نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اور اس کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی تہران نے جوابی حملہ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے کئی روز سے حملے جاری ہیں، جن میں سے سب سے شدید ایرانی جانب سے آج صبح کیا گیا۔
ایرانی افواج نے اسرائیل کے کئی شہروں، جن میں تل ابیب اور حیفا شامل ہیں، پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے، جن کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور تقریباً 85 زخمی ہوئے۔ یہ بات اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے بتائی۔
ادھر ایرانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 250 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
-
غزہ میں جو کیا ایران میں بھی وہی کریں گے: اسرائیلی فوج کی دھمکی
اسرائیل اور ایران کے درمیان مسلسل چوتھے روز بھی محاذ آرائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج ...
مشرق وسطی -
ایران میں نطنز افزودگی مرکز کے زیر زمین حصے کو نقصان پہنچنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا : گروسی
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے اس بات کی ...
مشرق وسطی -
تازہ ترین: اسرائیل-ایران حملے،ایئرلائنز کی طرف سےشرقِ اوسطیٰ کے مقامات کےلیے پروازیں معطل
ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو شرقِ اوسط کے بعض ...
بين الاقوامى