یہ "Barak Magen" کیا ہے جسے اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایرانی ڈرون گرانے کے لیے استعمال کیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ " Barak Magen" فضائی دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی ڈرون طیاروں کو روکا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان، اویخای ادرعی نے آج پیر کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "پہلی بار فضائی دفاعی نظام 'باراک میگن' اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے LRAD اعتراضی میزائل کا استعمال کیا گیا ہے"۔

ادرعی نے مزید کہا کہ "گزشتہ رات کے دوران، بحری جنگی بیڑے نے ایران سے چھوڑے گئے 8 ڈرون طیاروں کو تباہ کیا، اور اس کارروائی کے آغاز سے اب تک بحری میزائل بردار جہازوں کے ذریعے 25 ڈرون طیاروں کو روکا جا چکا ہے، جو اسرائیلی شہریوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔"

"باراک میگن" کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

یہ ایک جدید فضائی دفاعی نظام ہے جسے اسرائیلی ایرو اسپیس انڈسٹری نے تیار کیا ہے۔

اس نظام میں ایک کثیر المقاصد ریڈار شامل ہے جو مختلف فضائی خطرات کو دریافت کرنے، ہتھیاروں کے نظام کے مطابق انھیں درجہ بندی کرنے اور طویل فاصلے والے اعتراضی میزائل کے ذریعے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ اسرائیلی دفاعی ویب سائٹ پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ نظام بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں، بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرون) اور دیگر خطرات سے نمٹنے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ "جب فوج ان دنوں مختلف فضائی خطرات سے بیک وقت، قریبی اور دور دراز محاذوں سے نمٹ رہی ہے، تو طویل فاصلے تک مار کرنے والے LRAD میزائل کا فعال استعمال بحریہ کی سمندری برتری کو مزید مضبوط بنائے گا۔"

"چڑھتا ہوا شیر" آپریشن

یاد رہے کہ 13 جون سے اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف "چڑھتا ہوا شیر" کے نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اور اس کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی تہران نے جوابی حملہ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے کئی روز سے حملے جاری ہیں، جن میں سے سب سے شدید ایرانی جانب سے آج صبح کیا گیا۔

ایرانی افواج نے اسرائیل کے کئی شہروں، جن میں تل ابیب اور حیفا شامل ہیں، پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے، جن کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور تقریباً 85 زخمی ہوئے۔ یہ بات اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے بتائی۔

ادھر ایرانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 250 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں