ایران میں 62 گھنٹے کے تعطل کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال
بین الاقوامی نیٹ ورک سے مکمل رابطہ بحال کرنے کا اعلان
ایران میں انٹرنیٹ کی سروس 62 گھنٹوں کی معطلی کے بعد دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔ ایرانی حکام نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ملک بھر میں بین الاقوامی انٹرنیٹ رابطہ مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر مواصلات ستار ہاشمی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے سے پورے ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی جائے گی۔
عالمی سطح پر انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے "نیٹ بلاکس" نے بھی ہفتے کے روز تصدیق کی کہ ایران میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے یہ سروس تقریباً 62 گھنٹے کے لیے بند کر دی تھی۔
نیٹ بلاکس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ انٹرنیٹ بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے، مگر سروس تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی اور کئی علاقوں میں یہ اب بھی کمزور ہے۔ اس سروس کو معمول کے درجے سے نیچے تصور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جمعہ کے روز تصدیق کی تھی کہ بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کی جائے گی۔
"نامعلوم روابط" اور عسکری مقاصد
ترجمان نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ نامعلوم ویب لنکس نہ کھولیں اور معلومات صرف "مقامی پلیٹ فارمز اور قومی ذرائع ابلاغ" سے حاصل کریں۔
ایرانی وزارت مواصلات نے بدھ کے روز وضاحت کی کہ یہ پابندیاں دشمن کی جانب سے قومی مواصلاتی نیٹ ورکس کے "غلط استعمال، عسکری مقاصد اور معصوم شہریوں کی زندگی و املاک کو خطرے میں ڈالنے" کی وجہ سے عائد کی گئیں۔ یہ بات ایرانی خبررساں ایجنسی "مہر" نے رپورٹ کی۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی حملے کے پہلے روز ایران میں انٹرنیٹ نیٹ ورک میں خلل کا آغاز ہوا تھا۔
واٹس ایپ کی پابندی
اسی دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے "انسٹاگرام" اور "واٹس ایپ" کے ذریعے کسی بھی قسم کے صوتی یا ویڈیو مواد بھیجنے پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد دونوں ایپس کو سرکاری طور پر بند کر دیا گیا۔
ایرانی حکام نے اسرائیلی حملے کے ابتدائی دنوں میں عوام سے یہ بھی کہا کہ وہ "واٹس ایپ" ایپلیکیشن کو اپنے موبائل فونز سے حذف کر دیں، کیونکہ اس پر الزام تھا کہ یہ صارفین کا ڈیٹا جمع کرکے اسرائیل کو فراہم کرتی ہے۔
ادھر "میٹا" کمپنی کے تحت چلنے والی واٹس ایپ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیغامات اور معلومات صرف بھیجنے اور وصول کرنے والے افراد تک محدود رہتی ہیں اور کسی تیسرے فریق کو ان تک رسائی حاصل نہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران کے مختلف علاقوں پر اچانک حملے کیے تھے، جن میں میزائل لانچنگ پیڈز، عسکری مراکز اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ ایرانی قیادت کی متعدد شخصیات اور 14 ایٹمی سائنس دانوں کو بھی ہدف بنایا گیا.
-
او آئی سی کی ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت، کشیدگی کم کرنے کی اپیل
اسلامی تعاون تنظیم ( اوآئی سی) کے وزرائے خارجہ نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی ...
مشرق وسطی -
روس نے اسرائیل کو آگاہ کیا تھا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے کوئی شواہد نہیں: پوتین
پرامن جوہری پروگرام میں ایران کی مدد کے لیے تیار ہیں: روسی صدر کی سکائی نیوز عربیہ ...
بين الاقوامى -
ایران سے متعلق فیصلہ کرنے سے پہلے امریکی مفادات پر توجہ دے رہے ہیں: نائب امریکی صدر
پوری دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل یا ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہونے کے ...
بين الاقوامى