فرانس کے صدر عمانویل میکروں نے کہا ہے کہ فرانس اور اس کے یورپی شراکت داروں کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کو تیز کریں اور آگے بڑھائیں۔
ان کا یہ بیان ہفتے کے روز سامنے آیا ہے جب بڑے یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جنگ کا ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد جمعہ کے روز ایران کے ساتھ جنیوا میں مذاکرات کیے ہیں۔
جبکہ صدر ٹرمپ نے ایران کو دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے ایران کو یورپی ملکوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اسے امریکہ کے ساتھ فوری بات چیت کرنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے اس کے باوجود ایران کو دوہفتوں کی مہلت کے ساتھ ملفوف دھمکی دی ہے کہ اپنی امن پسندی کے باعث خود کو نوبل انعام کا حق دار سمجھ رہے ہیں۔
فرانس کے صدر نے ہفتے کے روز ایران پر زور دیا کہ اسے امریکہ کے ساتھ اپنی سفارتی کوششوں کو نئے سرے سے دیکھنا چاہیے اور جوہری معاملے میں امریکہ کے ساتھ پیدا شدہ تناؤ کو کم کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ اسی وقت جوہری ایشو پر سفارت کاری کو اہمیت دے گا جب اسرائیل ایران کے خلاف بمباری روکے گا۔
جبکہ میکروں نے ہفتے کے روز ہی کہا ہے کہ مذاکراتی کوششیں جنگ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دیں گی۔ میں اس پر قائل ہوں کہ یہی بہتر اور مفید راستہ ہے۔ اسی راستے سے جنگ اور خطرات سے بچا جاسکے گا۔
میکروں نے ان خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کیا اور کہا ان کی آج ہی ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ میں نے انہیں کہا ہے کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے فرانس اور اس کے یورپی شراکت دار ایران کے ساتھ بات جیت کی رفتار تیز کریں گے۔
اس گفتگو کے دوران ایران سے فرانس کے صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا یہ ایران کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ ضمانتیں دے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے درخواست کا اعادہ کیا کہ وہ انہیں جلد رہا کردے۔ ان دو فرانسیسی شہریوں کو مئی 2023 میں ایرانی سکیورٹی اداروں نے گرفتار کیا تھا۔
تاہم فرانس ان پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ دونوں کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی شہریوں کی حراست غیر انسانی ہے۔ توقع ہے کہ انہیں جلد رہائی ملے گی۔
-
موساد کا ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری، 17 ماہرین ہلاک کیے جا چکے
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری غیر معمولی جنگ کے دوران صرف 9 دنوں میں اسرائیلی ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کا جنوب مغربی ایران پر حملہ، اہواز دھماکوں سے گونج اٹھا
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نویں روز بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ...
بين الاقوامى -
اسرائیل-ایران تنازعہ: جی سی سی کے سفیروں کا جوہری تنصیبات کی حفاظت سے متعلق اظہارِ تشویش
جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے "خطرناک نتائج" کا انتباہ
بين الاقوامى