ترکی کی کرد نواز جماعت صدر طیب ایردوآن سے ملاقات کرے گی
ترک صدر رجب طیب ایردوآن 25 جون 2025 کو نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ایک پریس کانفرنس میں شریک ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
ترکی کی کرد نواز ڈی ای ایم پارٹی پیر کو صدر طیب ایردوآن سے ملاقات کر رہی ہے جس میں ترک ریاست اور عسکریت پسند گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے درمیان امن عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
مئی میں پی کے کے کے تخفیفِ اسلحہ کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرنے والی اور ملک کی تیسری سب سے بڑی پارٹی ڈی ای ایم نے کہا کہ اس نے اتوار کو جیل میں پی کے کے رہنما عبداللہ اوکلان سے ملاقات کی۔
پارٹی نے ایک بیان میں کہا، "(اوکلان) نے کہا کہ وہ صدر کے ساتھ ہمارے وفد کی ملاقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اسے تاریخی قرار دیا ہے۔"
ترک ریاست کے ساتھ چار عشروں سے زائد عرصے سے جاری خونریز تنازعہ میں پی کے کے نے مئی میں اپنی مسلح جدوجہد کو ختم اور پارٹی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکام اور ذرائع نے بتایا کہ پی کے کے آئندہ دنوں میں اپنے ہتھیار حوالے کرنا شروع کر سکتی ہے۔
صدر ایردوآن 1200 جی ایم ٹی کے مطابق پر انقرہ میں ڈی ای ایم پارٹی کے رہنماؤں اور وفد کا استقبال کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ پی کے کے کے تخفیفِ اسلحہ کے عمل میں حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
فروری میں اوکلان کی پی کے کے کے لیے عوامی کال کے بعد سے ڈی ای ایم نے ممکنہ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایردوآن اور دیگر سرکاری عہدیداروں سے مذاکرات کیے ہیں۔
اصل میں ایک آزاد کرد ریاست بنانے کے مقصد سے پی کے کے نے 1984 میں ترکی کے خلاف اپنی شورش شروع کی تھی۔ تب سے اس تنازعہ میں 40,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ ایک بہت بڑے معاشی بوجھ کا باعث بنا ہے اور سماجی تناؤ کو ہوا دی ہے۔