سعودی عرب کے قومی پروگرام برائے لائیوسٹاک و فشریز ڈویلپمنٹ نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران گائے کے دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے جینیاتی بہتری اور حیاتیاتی معلومات پر مبنی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے میں جینیاتی پروفائلنگ کی جدید تکنیک استعمال کی جائے گی تاکہ اعلیٰ پیداواری صلاحیت اور بہتر صحت کی حامل گایوں کا انتخاب کیا جا سکے۔
پروگرام کے مطابق جینیاتی پروفائلنگ کے ذریعے موجودہ دودھ دینے والے ریوڑ کی پیداوار میں 25 سے 90 فیصد تک بہتری ممکن ہے۔ یہ بہتری ان گایوں کے انتخاب سے حاصل ہو گی جو مخصوص مفید جینز کی حامل ہوں۔
توقع ہے کہ اس طریقہ کار سے موروثی بیماریوں اور پیداواری مسائل میں بھی واضح کمی آئے گی۔ رپورٹ کے مطابق جینیاتی بیماریوں جیسے تھن کی سوزش، لنگڑاپن اور افزائشِ نسل کی مشکلات سے بچاؤ کی شرح 60 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
اسی منصوبے کے تحت جینیاتی بیماریوں کی بروقت تشخیص کے لیے مقامی سطح پر جانچ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جو مویشیوں کی صحت کے 40 سے 70 فیصد مسائل کی شناخت میں مدد دے گی۔ خاص طور پر کمزور مدافعتی نظام، تھن کی بیماریاں، نشوونما میں رکاوٹ اور تولیدی مسائل کی جلد تشخیص ممکن ہو گی۔
پروگرام کے تخمینے کے مطابق وہ گائیں جو روزانہ صرف 20 سے 25 لیٹر دودھ دیتی ہیں کم پیداوار کی حامل اور اقتصادی لحاظ سے غیر مفید شمار ہوتی ہیں۔ اس لیے انہیں آئندہ پانچ برسوں میں بتدریج تبدیل کیا جائے گا تاکہ دودھ دینے والے ریوڑ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
قومی پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں دودھ دینے والی گایوں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ہے، جب کہ فی گائے سالانہ اوسط دودھ کی پیداوار 11 ہزار لیٹر سے زیادہ ہے جو یومیہ تقریباً 30 سے 35 کلوگرام کے برابر بنتی ہے۔
ملکی ڈیری کمپنیوں کے درمیان دودھ کی پیداوار میں فرق گائے کے انتظام، خوراک اور جینیاتی بہتری جیسے عوامل پر منحصر ہے۔