شام کے جنوب مغرب کو "غیر عسکری علاقہ" بنائے رکھنے پر کام کر رہے ہیں : نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ "ہم دروز کے تحفظ کے لیے طاقت ور کارروائیاں کرنے کے پابند ہیں ... اور اُمید ہے کہ ہمیں مزید کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ منگل کے روز سویداء صوبے پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی بم باری کا مقصد "جنوب مغربی شام کو غیر عسکری علاقہ بنائے رکھنا" اور "دروز اقلیت کا تحفظ" ہے۔

یہ بات انھوں نے وسطی اسرائیل میں واقع پیادہ فوج کے "الحشمونائیم بریگیڈ" کے دورے کے دوران کہی، جو خاص طور پر مذہبی یہودیوں (حریدیم) کے لیے مختص ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا "ہم صبح سے شام میں کارروائیاں کر رہے ہیں، اور ہم یہ عزم رکھتے ہیں کہ اسرائیل کی سرحد سے متصل جنوب مغربی شام کو غیر فوجی علاقہ بنائے رکھا جائے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ "ہم اس صورت حال کی واپسی کی اجازت نہیں دیں گے جہاں وہ شام میں دوبارہ لبنان جیسا منظرنامہ قائم کریں"۔ نیتن یاہو کا اشارہ حزب اللہ کی موجودگی کی طرف تھا۔

نیتن یاہو نے مزید کہا "ہم دروز آبادی کے تحفظ کے لیے پُر عزم ہیں، اور ہم یہ طاقت ور کارروائیوں کے ذریعے کر رہے ہیں، اور اُمید ہے کہ ہمیں مزید کارروائیوں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی"۔

اس سے قبل منگل کے روز شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" نے سویداء پر اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔

اسی ضمن میں اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل "ضرورت پڑنے پر شام میں دروز برادری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے"۔

یہ بیان شامی وزارت خارجہ کے اُس بیان کے جواب میں آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے فضائی حملوں کے تناظر میں شام کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں