"برازیلی صدر سے بات کے دوران ٹرمپ یوکرینی صدر جیسا رویہ اپنانے سے گریز کریں"

امریکہ کے ساتھ تعلقات کو عقل و حکمت کے راستے پر لانا چاہتے ہیں: برازیلی وزیرِ خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برازیل کے وزیرِ خزانہ فرناندو حداد نے کہا ہے کہ اگر برازیلی صدر لوئیس ایناسیو لولا دا سِلوا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی قسم کا ٹیلیفونک رابطہ ہوتا ہے تو اس کے لیے پہلے یہ ضمانت ضروری ہے کہ صدر لولا کو وہی سلوک نہ سہنا پڑے جو یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ہوا تھا۔

’سی این این‘ برازیل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے وضاحت کی کہ حکومت اس وقت امریکہ کی جانب سے برازیلی برآمدات پر عائد بھاری کسٹم ڈیوٹیز کے معاملے پر مذاکرات کر رہی ہے اور ان کوششوں کے تحت واشنگٹن کے ساتھ ایسی بات چیت کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے جو منطقی، نپی تلی اور تعمیری ہو۔

فرناندو حداد نے اشارہ دیا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی کو واشنگٹن میں ایک "غیر مناسب اور شرمندہ کن صورت حال" کا سامنا کرنا پڑا، جب اُنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب جی ڈی وینس نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکہ اور برازیل کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو محض دونوں صدور کے مابین اختلافات تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور تزویراتی پہلوؤں تک پھیل چکی ہے۔ اس کشمکش کے پیچھے لاطینی امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی رسہ کشی اور عالمی مالیاتی نظام کے مستقبل پر جاری مقابلہ بھی کارفرما ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست کے آغاز سے برازیل سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 50 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وہ اس دباؤ کو ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد امریکہ کے تجارتی تعلقات کو زیادہ سخت شرائط کے تحت دوبارہ استوار کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں