امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پینٹاگون میں اعلیٰ سطحی دفاعی اجلاس

سعودی عرب ایک "اہم، دیرینہ دفاعی شراکت دار" ہے: پالیسی سربراہ پینٹاگون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

واشنگٹن اور ریاض کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے امریکی اور سعودی حکام نے گذشتہ ہفتے پینٹاگون میں ایک اعلیٰ سطحی فورم کا اجلاس طلب کیا۔

یہ دو روزہ اجلاس سٹریٹیجک جوائنٹ پلاننگ کمیٹی (ایس جے پی سی) کا نواں اجلاس تھا جس کی قیادت امریکہ کی جانب سے پینٹاگون کے پالیسی چیف ایلبرج کولبی نے کی اور سعودی وفد کی نمائندگی معاون وزیرِ دفاع ڈاکٹر خالد بیاری نے کی۔

کولبی نے ایکس پر کہا، "سعودی عرب ریاست امریکہ کے لیے ایک اہم، دیرینہ دفاعی شراکت ہے جو اپنے دفاع میں مزید صلاحیت اور خود انحصاری حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔"

پینٹاگون کے ترجمانِ اعلیٰ شان پارنیل نے کہا، فریقین نے اہم دفاعی ترجیحات اور علاقائی سلامتی کے چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا۔ وفود نے پائیدار دوطرفہ تعلقات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

پارنیل نے مزید کہا کہ کولبی نے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور "مشترکہ علاقائی مقاصد کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون کرنے کے لیے" سعودی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

یہ ملاقات سعودی ریاست کو حالیہ امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے ایک سلسلے کے درمیان ہوئی ہے۔ اس سال کے شروع میں ٹرمپ انتظامیہ نے 3.5 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے کی منظوری دی جس میں 1,000 ایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائل (AMRAAM) اور 50 اے آئی ایم-120سی-ایٹ گائیڈنس سیکشن شامل تھے۔

واشنگٹن نے مارچ میں سعودی عرب کو عین درست گائیڈڈ گولہ بارود فروخت کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔

اس کے علاوہ شرقِ اوسط کے لیے اعلیٰ امریکی فوجی جنرل نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کی اولین تھاڈ (THAAD) بیٹری مکمل طور پر فعال ہو چکی تھی۔

موجودہ دفاعی تعلقات اس وسیع فریم ورک پر استوار ہوئے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مئی میں سعودی عرب کے اولین سرکاری غیر ملکی دورے کے دوران قائم ہوا۔ اس سفر کے نتیجے میں 142 بلین ڈالر کی میمورنڈا آف انٹینٹ پر دستخط ہوئے جس میں امریکی دفاعی صنعتی مراکز میں بڑی سعودی سرمایہ کاری شامل تھی۔

گذشتہ ہفتے کے ایس جے پی سی کے دوران کولبی نے دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پینٹاگون کے عزم کا اعادہ کیا اور مئی میں دستخط کردہ معاہدے نافذ کرنے کے لیے "تیز رفتار پیش رفت کی حوصلہ افزائی" کی۔

پینٹاگون کے ترجمان پارنیل نے کہا، "دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی کے لیے امریکہ-سعودی دفاعی تعاون کو طاقت میں اضافہ کرنے والے عمل کے طور پر تسلیم کیا اور تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے مواقع کا جائزہ لیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں