نیدرلینڈز کے خلاف فرانسیسی فوجی مداخلت سے بیلجیم نے آزادی حاصل کی

بیلجیئم اور نیدرلینڈز کے درمیان دس روزہ جنگ کے نتیجے میں 925 بیلجیئن افراد اور 661 ڈچ ہلاک ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

نیپولین جنگوں کے خاتمے اور 1815 میں ویانا کی کانگریس کے بلانے کے ساتھ آسٹرین نیدرلینڈز اور لیج، جدید بیلجیئم اور لکسمبرگ اور ڈچ ری پبلک کے کئی علاقوں کو ملاکر نیدرلینڈز کی متحدہ مملکت تشکیل کردی گئی۔ اگلے سالوں میں نیدرلینڈز کی متحدہ مملکت نے شمال اور جنوب کے درمیان متعدد جھگڑے اور تنازعات دیکھے۔

ویانا کی کانگریس کے صرف 15 سال بعد نیدرلینڈز کی متحدہ مملکت نے ایک بغاوت کا تجربہ کیا جسے بیلجیئم کے انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنوب کے باشندوں نے موجودہ بیلجیئم اور لمبرگ کے علاقوں سے ڈچ افواج کو نکالنے کی کوشش کی جس سے خطے میں مسلح تصادم شروع ہوا۔

بیلجیئم ۔ ڈچ دشمنی

بیلجیئم کے اس انقلاب کے درمیان بیلجیئم کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے نیدر لینڈز کی متحدہ مملکت کی فوج کے ساتھ خدمات انجام دینے کے لیے بیلجیئم کی آزادی کے مطالبے کے لیے بغاوت کرنے اور ہتھیار اٹھانے سے دریغ نہیں کیا۔ دوسری طرف نیدرلینڈز کی مملکت شروع میں اپنے آپ کو مشرق بعید میں تعینات اپنی فوجوں کی بڑی تعداد اور جاوا جنگ میں ان کی شمولیت کی وجہ سے بغاوت کو روکنے میں ناکام رہی۔

جیسے ہی اس کی فوجیں پیچھے ہٹیں، ڈچ بادشاہ ولیم اول کو خدشہ تھا کہ اس کا وقار اور مقام گر جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس نے 1831 میں فوجی کارروائی کا سہارا لینے سے پہلے بحران سے نکلنے کے لیے بیلجیئم کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ پھر کنگ ولیم اول نے حملے کی تیاری کے لیے بیلجیئم کی سرحد پر تقریباً 50,000 اچھی طرح سے مسلح اور تربیت یافتہ فوجیوں کو جمع کیا۔ بیلجیم جس نے 1830 میں اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا کے پاس صرف 24,000 فوجی تھے اور ساتھ ہی کئی محافظ دستے تھے۔

دس دن کی جنگ

2 اگست 1831 کو نیدرلینڈز کی مملکت کی افواج نے بیلجیم میں اپنی مداخلت شروع کردی۔ اچھی طرح سے مسلح اور متحد ڈچ فوج کا سامنا کرتے ہوئے بیلجیئم کے فوجیوں کو متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ برسلز کے مضافات میں پسپائی پر مجبور ہوئے۔ ان لڑائیوں کے ساتھ نیدر لینڈز کی فوج نے بلجیم میں تیزی سے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاکہ اس کے زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کر لیا جائے۔ بعد میں برسلز کے یورپی اتحادیوں نے تنازعہ میں مداخلت کی۔

8 اگست 1831 کو بیلجیئم کی حکومت نے فرانس پر زور دیا کہ وہ ڈچوں کے خلاف اپنی طرف سے مداخلت کرے۔ جیسے ہی ڈچ افواج برسلز کے قریب پہنچیں فرانس نے 12 اگست کو بیلجیئم کی مدد کے لیے مداخلت کرنے پر اتفاق کیا۔ فرانسیسی بادشاہ لوئس فلپ اول نے ڈچوں کو بے دخل کرنے کے لیے 70,000 فوجیوں کی قیادت کرتے ہوئے مارشل ایٹین موریس جیرارڈ کو بھیج دیا۔

فرانسیسیوں کے ساتھ تصادم سے بچنے کے لیے نیدر لینڈز نے بیلجیم سے دستبردار ہونے اور برسلز کا محاصرہ ختم کرنے کو ترجیح دی۔ نومبر 1831 تک فرانسیسیوں نے بیلجیم میں آخری ڈچ چوکی اینٹورپ کا محاصرہ کر لیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ فرانسیسی مداخلت کی بدولت بیلجیئم نے دس دنوں کی جنگ کے دوران اپنی آزادی برقرار رکھی۔ اس جنگ کے نتیجے میں 1500 سے زیادہ بیلجیئن اور ڈچ ہلاک ہوئے۔ اگلے سالوں میں نیدر لینڈز (ہالینڈ) اپنی فوج کے حجم میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو گیا اور 1839 تک نیدرلینڈ نے بیلجیم کی آزادی کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں