مراحل وار یا ایک ہی بار .… غزہ پر حملے کا منصوبہ ایک ہفتے میں مکمل ہو جائے گا

فوجی حکام کے مطابق اضافی فورسز کو ہر حال میں بھرتی کے لیے بلایا جائے گا، خواہ حملے کے لیے ہو یا مستقل فورسز کے متبادل کے طور پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر قبضے میں لینے کے منصوبے کی منظوری کے بعد ... فوجی حکام نے بتایا ہے کہ غزہ شہر پر حملے کے لیے مطلوب فورسز کی تعداد کا اندازہ لگانے میں فوج کو کم از کم ایک ہفتہ مزید لگ سکتا ہے۔

اس حوالے سے "ٹائمز آف اسرائیل" اخبار کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ نئے حملے کی منصوبہ بندی کے خاکے تیار کرنے میں کم از کم ایک ہفتہ مزید درکار ہو گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ خاکہ تیار ہوتے ہی فوج کو مطلوبہ فوجی تعداد اور ان کے قیام کی مدت کا اندازہ ہو جائے گا۔

حکام نے نشان دہی کی کہ اضافی فوجیوں کو ہر صورت میں بھرتی کیا جائے گا، خواہ وہ حملے کے لیے ہو یا دیگر محاذوں پر مستقل فوجیوں کی جگہ لینے کے لیے اور یا پھر دونوں مقاصد کے لیے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد تقریباً 287,000 اضافی فوجیوں کو بلایا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے قبضے کی فوجی منصوبہ بندی ابھی واضح نہیں ہے، مثلا حملے کے راستے اور یہ کہ قبضہ ایک مرتبہ میں ہوگا یا مراحل میں۔

ادارے نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ وہ تمام باقاعدہ فورسز کو غزہ بھیجے گا، جبکہ دیگر محاذوں کی ذمے داری اضافی فورسز کو دی جائے گی۔
جمعے کے روز اسرائیلی سیکورٹی کابینہ نے شمالی غزہ شہر پر قبضہ شروع کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس کے تحت تقریباً دس لاکھ فلسطینیوں کو جنوب کی جانب منتقل کیا جائے گا، پھر شہر کو گھیر کر رہائشی علاقوں میں حملے کیے جائیں گے۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ شامل ہو گا جس میں وسطی غزہ میں موجود پناہ گزین کیمپوں پر قبضہ کیا جائے گا، جن کے بڑے حصے اسرائیل نے تباہ کر دیے ہیں۔
دوسری طرف اس منصوبے پر اسرائیل کے اندر اور باہر شدید تنقید اور مذمت بھی ہوئی ہے۔

غزہ کا منظر

مخالفین اور اسرائیلی قیدیوں کے خاندانوں نے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی حکومت کو بچانے اور سیاسی مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں۔

اسی طرح اقوام متحدہ، متعدد یورپی اور عرب ممالک کے رہنماؤں نے اسرائیلی اس منصوبے کے نتیجے میں غزہ کے انسانی بحران اور المیے کے مزید سنگین ہو جانے کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں