محصول کا معاملہ: بھارتی وزیرِ اعظم کا کسانوں کے تحفظ، خود انحصاری کا عزم
بھارت کو روسی تیل کی مسلسل درآمد پر ٹرمپ کی ناراضی کی سامنا
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز اپنے ملک پر زور دیا کہ وہ زیادہ خود انحصاری کی طرف بڑھے اور کھاد سے لے کر جیٹ انجن اور ای وی بیٹری تک ہر چیز تیار کرے۔ انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تنازعے کے درمیان کسانوں کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔
مودی بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر قوم سے ایسے وقت میں خطاب کر رہے تھے جب نئی دہلی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارتی اشیاء پر عائد ٹیرف کی سزا اور تجارتی مذاکرات کے خاتمے سے برسرِ پیکار ہے۔ مذاکرات ناکام ہونے کی بڑی وجہ امریکی ڈیری مصنوعات کی درآمدات پر اختلافات ہیں۔
مودی نے نئی دہلی میں لال قلعہ کی فصیل سے اپنے روایتی سالانہ خطاب میں کہا، "کسان، ماہی گیر، مویشی پرور طبقہ ہماری اولین ترجیحات ہیں۔"
انہوں نے کہا، "مودی کسی بھی ایسی پالیسی کے خلاف دیوار کی طرح کھڑا ہو گا جس سے ان کے مفادات کو خطرہ ہو۔ ہمارے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھارت کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔"
مودی نے تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اپنی تقریر میں ٹیرف یا امریکہ کا ذکر نہیں کیا۔
نئی دہلی کی روسی تیل کی مسلسل درآمدات کی بنا پر گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے بھارتی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جس نے دونوں ممالک کے درمیان تیزی سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
نیا درآمدی ٹیکس بعض بھارتی برآمدات پر ڈیوٹی کو 50 فیصد تک بڑھا دے گا جو کسی بھی امریکی تجارتی شراکت دار کے لیے سب سے زیادہ ہے۔
مودی نے کبھی بھی ٹیرف کے بارے میں براہِ راست بات نہیں کی، صرف گذشتہ ہفتے ایک تقریر میں ان کی طرف اشارہ کیا جب انہوں نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کی قسم کھائی خواہ اِن کے لیے انہیں ذاتی سطح پر ہی قیمت ادا کرنا پڑے۔
خدشہ ہے کہ ان محصولات سے بھارت کی سب سے بڑی برآمدی منڈی تک رسائی میں خلل پیدا ہو گا جہاں 2024 میں تقریباً 87 بلین ڈالر کا کاروبار ہوا اور ان سے ٹیکسٹائل، جوتے، جواہرات اور زیورات جیسے شعبے متأثر ہوتے ہیں۔
جمعرات کو بھارتی وزارتِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔