آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ سیلی رونی نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنےوالی انسانی حقوق کی تنظیم ' فلسطین ایکشن،' کو اپنی کتب سے حاصل ہونے والی رقم دیں گی۔
فلسطین ایکشن نامی انسانی حقوق گروپ پر برطانوی حکومت نے حال ہی میں پابندی لگا دی ہے۔ نیز اس انسانی حقوق تنظیم کو برطانیہ نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا یے۔
ہاد رہے یہ انسانی حقوق گروپ مسلسل غزہ میں اسرائیلی ریاست کی جنگ روکنے کا مطالبہ کرر ہی تھی اور برطانیہ میں فلسطینیوں کے حق میں جبکہ اسرائیلی جنگ کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔
سیلی رونی نے اس انسانی حقوق کی برطانوی پابندی کے اعلان کے باوجود ' فلسطین ایکشن ' کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بی بی سی کی حاصل کردہ دو تصنیفات سے حاصل ہونے والی رقم فلسطین ایکشن کو دیں گی۔
مصنفہ نے یہ اعلان آئرش سے تعلق رکھنے والے اخبار آئرش ٹائمز کے ذریعے کیا ہے کہ اپنے دوسرے ناول ' نارمل پیپل' کے علاوہ 2020میں بی بی سی کی طرف سے اس کی کتب کے سلسلے میں حاصل ہونے والی رقم فلسطین ایکشن کو پیش کر دیں گی۔
سیلی رونی نے مزید کہا بی بی سی انہیں ان کی کتب کی وجہ سے باقاعدہ فیس ادا کرتی ہے۔ وہ اس فیس کے حوالے سے اعلان کرتی ہیں کہ یہ اب فلسطینی ایکشن کو دے دیں گی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف آوز اٹھاتی رہیں گی۔
ادھر برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔رونی نے کہاانہوں نے اپنے اس اعلان کے لیے آئرش اخبار کی مدد لی ہے۔۔ کینکہ فلسطین ایکشن پر جولائی کے شروع میں لگائی گئی پابندی کی وجہ سے یہ برطانیہ سے اعلان ممکن نہ ہوسکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا ہے نسل کشی کے خلاف جس طرح بھی ممکن ہوا وہ اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔یاد رہے برطانیہ فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکلنے والے سات سو سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے چکا ہے۔ یہ گرفتاریاں فلسطین ایکشن کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد کی گئی ہیں۔
سیلی رونی نے کہا جن لوگوں نے بھی فلسطین ایکشن پر پابندی کے بعد اس کے حق میں مظاہرہ کیا ہے میں خود کو ان کی احسان مند سمجھتی ہوں۔ اس کیے یہ کہوں کہ اگر ایسا کرنے پر برطانیہ مجھے دہشت گردی کی حامی کہتا ہے تو بھی یہ کرتی رہوں گی۔ خیال رہے برطانیہ جس پر ان دنوں لیبر پارٹی کی حکمرانی ہے نے پانچ جولائی کو فلسطین ایکشن پر پابندی لگائی تھی۔
اب ماہ اگست میں لندن پولیس نے ایک ہی روز پانچ سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے ۔ یہ تعداد ایک ریکارڈ ہے جو لیبر پارٹی کی حکومت نے قائم کیا ہے۔ کسی ایک احتجاج کے دوران یہ سب سے بڑی تعداد ہے جسے لندن پولیس نے گرفتار کیا ہے
ان میں سے کم از کم 60 کے خلاف باقاعدہ طور پر پولیس مقدمہ چلانے کا اردہ رکھتی ہے۔
تاہم آئرش مصنفہ رونی کا کہنا ہے کہ فلسطین ایکشن کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں ۔ اس موقف کے بارے میں وزیر اعظم کیر سٹارمر کے سرکاری ترجمان نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بس اتنا کہا ہے کہ قانون کے مطابق سب کے ساتھ ڈیل کیا جائے گا۔