عالمی فوجداری عدالت کے دو ججوں اور ڈپٹی پراسیکیوٹرز پر نئی امریکی پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری سے متعلق حکام اور اہلکاروں پر مزید پابندیوں کا نفاذ کردہا ہے۔ نئی پابندیوں کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں بھی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیل کے بارے میں سخت رویے اور قانونی و عدالتی پراسس کے شروع کر رکھنے کے خلاف اظہار ناراضگی کے لیے عائد کی گئی ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی ریاست کی غزہ میں جاری جنگ کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دیکھنا شروع کر رکھا ہے اور اس ناطے وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے ساتھ پچھلے سال تک وزیر دفاع رہنے والے یوو گیلنٹ کے انہی جنگی جرائم کے کھاتے میں وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

غزہ میں تقریبآ دو سال سے جاری جنگ میں اب تک اسرائیلی رہاست نے 62 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ان میں خواتین اور بچے زیادہ تعداد میں ہیں۔جو اسرائیلی بمباری سے قتل کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں اسرائیلی ریاست انہی جنگ زدہ اور زیر محاصرہ بے گھر فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو بھی ایک جنگی حکمت عملی کے تحت استعمال کر رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں لگ بھگ اڑھائی سو فلسطینی بھوک سے مار دیے گئے ہیں۔ ان بھوک سے مارے گئے افارد میں 103فلسطینی بچے ہیں۔۔

اگرچہ مئی 2024 میں جاری کیے گئے ان وارنٹ گرفتاری کے بعد بھی نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے نہ ہی کوئی ایسی کوشش نظر آئی ۔ تاہم امریکہ نے اس دوران خود بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکام اور متعلقہ افراد پر پابندیاں لگا کر انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ ضرور بنانا شروع کردیا۔

امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت اسرائیلی عہدے داروں کے خلاف بلا جواز اور غیر قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ فوجداری عدالت امریکہ اور امریکہ کے اتحادی ( اسرائیل) کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ یہ عدالت قانون کا استعمال کرکے خطرہ بنی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی سال کے شروع میں صدارت سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے کیونکہ یہ عدالت اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا موجب بنی ہے۔

اب بدھ کے روز ان پابندیوں کے سلسلے میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول فوجداری عدالت کے متعلقین جن میں کینیڈا کے کمبلے پروسٹ ، فرانس کے نکولس گوئیلو ،فجی کی نزاہت شمیم خان ، اور سینیگال کی مندیائےنیسنگ شامل ہیں کو صدر ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے کی زد میں لایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ سب لوگ فوجداری عدالت کے امور سے متعلق ہیں۔

جبکہ فوجداری عدالت کا کہنا ان میں دو فوجداری عدالت کے جج اور دو ڈپٹی پراسیکیوٹر ہیں۔۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی شور دے کر کہا کہ یہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کسی امریکی یا اسرائیلی شہری کو امریکہ اور اسرائیلی ریاست کی اجازت کے بغیر زیر تفتیش لا سکتی ہے، نہ نظر بند کر سکتی ہے نہ ہی گرفتار کر سکتی ہے۔

یاد رہے یہ بین الاقوامی فوجداری عدالت امریکی فوجی حکام کو بھی افغانستان میں جنگی جرائم کے سلسلے میں مقدمے کا نشانہ بنانے کی کوشش کر چکی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پروسٹ کو افغانستان میں امریکی اہلکاروں کے بارے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کی اجازت دینے کے فیصلے کے باعث امریکی پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ۔ جبکہ دیگر تینوں افراد کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے ساتھ بطور وزیر دفاع کام کرنے والے ہوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی حمایت کرنے پر پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے۔

مارکو روبیو نے واضح کیا امریکہ فوجداری کی اس بین الاقوامی عدالت کی مخالفت میں ثابت قدم ہےکیونکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سیاست کی بنیاد پر طاقت کا غلط استعمال کر کے ہماری قومی خودمختاری کی بے عزتی کر رہی ہے اور ہمارے معاملات میں غیر قانونی عدالتی مداخلت کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنی فوجوں، خودمختاری اور اپنے اتحادیوں کو عدالتوں کے ناجائز اور بے بنیاد اقدامات سے بچانے کے لیے اس طرح کے ضروری اقدامات آئندہ بھی جاری رکھے گا ۔

انہوں نے دوسرے ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ بھی اس دیوالیہ ہو چکی عدالت کے خلاف اقدامات کریں کیونکہ امریکہ نے آزادی بڑی قربانیوں سے حاصل کی تھی ۔ جسے یہ خراب کرنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اپنے ردعمل میں کہا ہے ٹرمپ انتظامیہ کا مزید چار ارکان جن میں دو جج اور دو ڈپٹی پراسیکیوٹرز شامل ہیں کے خلاف نئی امریکی پابندیاں افسوسناک ہیں۔ یہ پابندیاں ایک بین الاقوامی ادارے پر کھلے حملے کے مترادف ہیں جو تمام خطوں کی 125 ریاستوں کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرتا ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے کہا یہ عدالتی فورم ، بین الاقوامی قانون ، فوجداری عدالت کو مینڈیٹ دینے والوں اور ان ہزاروں مظلوموں کے خلاف بھی ایک حملہ ہے۔ مگر فوجداری عدالت دباؤ کے تمام تر حربوں کے باوجود قانون کے مطابق اسی عزم کے ساتھ اپنا کام کرتی رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں