افغان حکام نے بدھ کی شام صوبہ ننگرہار میں 3 افراد کے قتل کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ 7 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملے پاکستان کی طرف سے کیے گئے ہیں۔
افغان حکام نے اس سلسلے میں پاکستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔
صوبہ خوست کے ضلع اسپیرا میں جنوب مشرقی سرحد کے ساتھ ڈرونز نے گھر پر حملہ کر کے حاجی نعیم خان کی رہائش کو نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں 3 بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ بات صوبے کے اطلاعاتی سربراہ نے میڈیا سے کہی ہے۔
ننگرہار کے علاقے شنوار میں بھی ترجمان کے مطابق اسی طرح کی ایک کارروائی کی گئی ہے۔ جس میں ایک شہری کا گھر مکمل تباہ ہوگیا۔ جبکہ اس کے 4 بیٹے اور 2 بیگمات ہلاک ہوئیں۔
پاکستان نے اس پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ خیال رہے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے تبصرے کی درخواست بھی کی تھی۔
حالیہ چند برسوں سے پاکستان افغانستان تعلقات خراب چل رہے ہیں۔ پاکستان الزام لگاتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی ہے۔ کابل کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی کسی کو اس طرح کی جگہ نہیں دی۔
یاد رہے افغانستان کے علاقوں میں یہ ڈرون حملے وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار کے حالیہ دورہ افغانستان کے ایک ہفتہ بعد ہوئے ہیں۔ ان کے اس دورے کے دوران پاکستان افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے سہ فریقی مذاکرات کیے تھے۔
طالبان نے اپنے ایک بیان میں ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی تھی اور ان حملوں کے نتیجے میں سویلینز کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ اس طرح کے اقدامات کے برے اور منفی مضمرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزارت خارجہ نے پاکستان کے سفیر بابر عبیدالرحمن نظامانی کو طلب کیا اور انہیں ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ یاد رہے نظامانی 2022 میں پاکستانی سفارتخانہ پر ایک بڑے حملے کے دوران بچ گئے تھے۔