الجزائر کی ایتھلیٹ ایمان خلیف کا عالمی باکسنگ فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

الجزائر کی اولمپک چیمپئن ایمان خلیف نے بین الاقوامی باکسنگ فیڈریشن کے فیصلے کے خلاف کھیلوں کی ثالثی عدالت میں اپیل دائر کی ہے۔ عالمی ادارۂ باکسنگ نے ان پر خواتین کے مقابلوں میں شرکت کے لیے لازمی جنس کی جانچ کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک وہ اپنی حیاتیاتی حیثیت ثابت نہیں کرتیں، انہیں خواتین کے زمرے میں کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اپیل اور عارضی اجازت کی درخواست

ایمان خلیف جنہوں نے پیرس اولمپکس 2024ء میں ویٹر ویٹ کیٹگری میں سونے کا تمغہ جیتا نے عالمی باکسنگ کے نئے قوانین کے خلاف اپیل کرتے ہوئے کھیلوں کی ثالثی عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ انہیں برطانیہ کے شہر لیورپول میں شروع ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں عارضی طور پر شرکت کی اجازت دی جائے۔ تاہم عدالت نے پیر کے روز ان کی یہ درخواست مسترد کر دی جبکہ مرکزی مقدمے کی سماعت کی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی۔

افواہیں اور وضاحت

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب کچھ دن قبل ان کے سابق مینیجر ناصر یفصح نے ایک فرانسیسی اخبار کو بتایا تھا کہ خلیف نے باکسنگ چھوڑ دی ہے۔ بعدازاں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ خلیف اپنے سابق کلب سے علیحدہ ہو چکی ہیں۔ ایمان خلیف نے فیس بک پر ان بیانات کو "جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی اپنی باکسنگ کیریئر سے وابستہ ہیں، باقاعدگی سے تربیت کر رہی ہیں اور الجزائر و قطر میں آئندہ مقابلوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایمان خلیف
ایمان خلیف

تنازع کی وجوہات

گذشتہ جون میں ہالینڈ میں ایک بین الاقوامی چیمپئن شپ سے قبل عالمی باکسنگ نے لازمی جنس ٹیسٹ کا قانون متعارف کرایا تھا۔ اس کے تحت الجزائر فیڈریشن کو مطلع کیا گیا کہ ایمان خلیف خواتین کی کسی بھی کیٹیگری میں اس وقت تک نہیں کھیل سکتیں جب تک وہ جنس کا ٹیسٹ نہ کروائیں۔ ادارے کا مؤقف تھا کہ یہ فیصلہ مقابلوں میں انصاف اور تمام کھلاڑیوں کی جسمانی و نفسیاتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

میڈیکل رپورٹ اور عالمی ردعمل

بعد ازاں ایک طبی رپورٹ منظر عام پر آئی جس کے مطابق کہا گیا کہ خلیف "حیاتیاتی طور پر مرد" ہیں۔ عالمی فیڈریشن کے سربراہ بورس فان ڈر فورسٹ نے ان کا نام ظاہر کرنے پر معافی مانگی اور کہا کہ ان کی پرائیویسی کا احترام ہونا چاہیے تھا۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر انہیں 2023 ءکی عالمی باکسنگ چیمپئن شپ سے باہر کر دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل واپس لے لی تھی۔

اسی مقابلے میں تائیوان کی باکسر لن یو-تینگ کو بھی نااہل قرار دیا گیا تھا، مگر بعد میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے دونوں کو پیرس اولمپکس 2024ء میں کھیلنے کی اجازت دی، جہاں دونوں نے سونے کے تمغے جیتے۔ اس فیصلے نے کھیلوں کے حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا۔

ایمان خلیف کا مؤقف

26 سالہ ایمان خلیف بارہا واضح کر چکی ہیں کہ وہ پیدائشی طور پر عورت ہیں اور خواتین کے مقابلوں میں ان کا ایک طویل ریکارڈ ہے۔ مارچ 2024ء میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2028ء لاس اینجلس اولمپکس میں اپنے اعزاز کا دفاع کریں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں