ایک با خبر ذریعے کے مطابق قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں پیر کے روز ہونے والی ملاقاتوں میں حماس کی قیادت پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے سامنے آنے والی تازہ ترین امریکی تجویز کو قبول کرے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ قطری وزیراعظم نے حماس پر یہ واضح کیا کہ امریکی تجویز جو ثالثوں کے ذریعے پہنچائی گئی ہے، اس کا مقصد فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی ہے۔
اس سے ایک روز قبل حماس نے اعلان کیا تھا کہ اسے امریکا کی طرف سے کچھ تجاویز موصول ہوئی ہیں جن پر وہ ثالثوں کے ساتھ مل کر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب حماس کے رہنما باسم نعیم نے پیر کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والا منصوبہ محض ابتدائی خیالات ہیں، کوئی با ضابطہ تجویز نہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد دراصل معاہدہ کرانا نہیں بلکہ ایسا ماحول بنانا ہے کہ حماس اسے مسترد کر دے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تجاویز حماس کے ہتھیار چھڑوانے کی بات کرتی ہیں، لیکن غزہ کی تعمیر نو کا ذکر تک نہیں۔ البتہ حماس اور دیگر فلسطینی جماعتیں ایسے سیاسی حل کی خواہش مند ہیں جو جنگ کا خاتمہ کرے اور ان کے جائز مقاصد کو پورا کرے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے حماس کو "آخری انتباہ" جاری کیا ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرے، ورنہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ انھوں نے اسے "آخری موقع" قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل پہلے ہی شرائط مان چکا ہے، اب فیصلہ حماس کو کرنا ہے۔
العربیہ کو موصول تفصیلات کے مطابق امریکی منصوبے کی شقیں یہ ہیں :
حماس کو تمام قیدیوں کو خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، معاہدے پر دستخط کے 48 گھنٹوں کے اندر رہا کرنا ہو گا۔
اسی مدت میں فلسطینی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد بھی آزاد کی جائے گی، جن میں عمر قید کی سزا پانے والے اور غزہ کے قیدی بھی شامل ہیں۔
جنگ بندی کا آغاز فوری طور پر ہوگا جو 60 دن تک جاری رہے گی یا پھر مذاکرات مکمل ہونے تک قائم رہے گی۔ اس دوران صدر ٹرمپ ذاتی طور پر ضمانت دیں گے کہ سب فریق سنجیدگی سے بات چیت کریں۔
مذاکرات میں حماس کے کردار، اسلحہ رکھوانے، نئی حکومت کی تشکیل، اسرائیلی فوج کے انخلا اور حماس کے اراکین کے لیے عام معافی جیسے معاملات شامل ہوں گے۔
پانچواں نکتہ یہ ہے کہ جنگ بندی کے ساتھ ہی غزہ میں امداد کی ترسیل کھول دی جائے گی۔
یاد رہے کہ حماس نے اس سے قبل امریکی تجویز کو اسرائیلی انخلا اور جنگ بندی کی ٹھوس ضمانت کے ساتھ مشروط طور پر قبول کرنے کی بات کی تھی۔ اسرائیل نے تا حال اپنے موقف کا با ضابطہ اعلان نہیں کیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ میں اب بھی 47 قیدی موجود ہیں جن میں سے 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ سب سات اکتوبر 2023 کے حملے میں پکڑے گئے 251 افراد میں شامل تھے۔
دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی بم باری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 64 ہزار 455 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔ یہ اعداد و شمار حماس کے زیرانتظام وزارتِ صحت نے جاری کیے ہیں، جنہیں اقوامِ متحدہ معتبر قرار دیتی ہے۔