دوحہ پر اسرائیلی حملے کے باوجود غزہ کے لیے ثالثی جاری رہے گی: قطر
حملے کے باوجود ثالث کا کردار جاری رکھنے کا عزم
دوحہ میں حماس کے ایک احاطے پر اسرائیل کے مہلک حملے کے باوجود قطر غزہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوشش جاری رکھے گا، یہ بات قطر کے وزیرِ اعظم نے منگل کو کہی۔
حماس کے اعلیٰ مذاکرات کار خلیل الحیۃ کے بیٹے اور ایک قطری سکیورٹی افسر سمیت چھے افراد اسرائیل کے ایک غیر معمولی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے جس سے ثالثی کی کوششوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔
اس حملے کو خطے کے لیے ایک "اہم لمحہ" قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی نے کہا، قطر "اس بلاوجہ حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے"۔
لیکن انہوں نے مزید کہا: "خطے میں ہمیں جو مختلف مسائل درپیش ہیں، ان کے لیے یہ (ثالث کا) کردار جاری رکھنے سے ہمیں کوئی چیز نہیں روک سکتی۔"
خطے میں سب سے بڑے امریکی فوجی مرکز کی میزبانی کرنے والا ایک اہم امریکی اتحادی دوحہ 2012 سے امریکہ کی حمایت سے حماس کے سیاسی بیورو کی میزبانی کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی اتحادی کی سرزمین پر فوجی کارروائی کرنے کے اسرائیلی فیصلے سے متفق نہیں تھے اور قطر کو آنے والے حملوں سے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا۔
قطر نے پیشگی انتباہ موصول ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے حملہ شروع ہونے کے بعد ہی اسے مطلع کیا تھا۔