خود سے پیرا گلائیڈر بنانا کر اڑانا: پاکستانی مکینک کے بچپن کے خواب کی تکمیل

ہزار سی سی موٹر گاڑی کا انجن فعال پیراگلائیڈنگ انجن میں تبدیل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک 28 سالہ موٹر مکینک محمد اشرف بمشکل نوعمر تھے جب انہیں خاندان کی کفالت کرنے کی غرض سے اپنے بیمار والد کی مدد کے لیے سکول چھوڑنا پڑا۔

اگرچہ اشرف ایک کامیاب ٹیکنیشن بن گئے اور غربت زدہ صوبہ بلوچستان میں کچلاک کے خستہ حال قصبے میں اپنی ورکشاپ قائم کر لی لیکن ان کا اصل خواب کچھ اور تھا: ایک پیرا گلائیڈر بنا کر آسمان کی بلندی میں پرواز کرنا۔

2021 میں مکینک ورکشاپ کے مالک اشرف کو پنکھے سے چلنے والا تین پہیوں والا پیراموٹر بنانے کا کام ملا۔ انہوں نے فیس بک اور یوٹیوب پر پیراگلائیڈنگ کی ویڈیوز دیکھیں اور بالآخر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کچھ ساتھی مکینکس سے رابطہ کیا تاکہ مطلوبہ انجن اور پرزے تلاش کرنے میں مدد ملے۔

اشرف نے اپنے پیرا گلائیڈر کی پرواز سے قبل ایک انٹرویو میں عرب نیوز کو بتایا، "میں نے اپنا کام آن لائن ویڈیوز دیکھ کر شروع کیا۔ میں نے کسی سے نہیں سیکھا۔ نہ ہی میرے پاس اتنی تعلیم ہے کہ کوئی مجھے سکھا سکے اور نہ ہی ہمارے ملک میں ایسا کوئی نظام موجود ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "میں نے ایک پرانا انجن خریدا۔ اسے کھولا اور خود اسے دوبارہ بنایا۔ ایک بار جب مجھے انجن کے بارے میں مکمل اعتماد ہو گیا تو میں نے اسے انسٹال کیا۔ کلٹس [گاڑی] کے انجن کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہلکا پھلکا لیکن 1,000 سی سی کی طاقت رکھتا ہے۔"

محمد اشرفاپنی ورکشاپ کے اندر مشین پر کام کر رہے ہیں۔ (اے این)
محمد اشرفاپنی ورکشاپ کے اندر مشین پر کام کر رہے ہیں۔ (اے این)

گاڑی کے انجن کے علاوہ اشرف نے پیراموٹر بنانے کے لیے مقامی مواد اور پرزہ جات استعمال کیے اور اس منصوبے پر 5,776 ڈالر خرچ ہوئے۔ اشرف کا پیراموٹر تقریباً 20 لیٹر پٹرول پر نصف گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے جس میں پروں کی نقل و حرکت کنٹرول کرنے کے لیے سامنے لوہے کی ایک بڑی سلاخ لگی ہے اور ایکسلیٹر اور بریک کے طور پر دائیں بائیں دو پیڈل ہیں۔

انہوں نے کہا، "میرے لیے بیرونِ ملک سے اپنے پیراموٹر کے لیے درآمد شدہ انجن اور دیگر پرزہ جات خریدنا بہت مہنگا کام تھا اس لیے میں نے مقامی لوہا اور لاہور، کراچی اور کوئٹہ سے منگوائے گئے پرزہ جات استعمال کیے تھے۔ میں نے مقامی لکڑی تراش کر اپنے پیراموٹر کے لیے پر بنائے۔

"بلوچستان کے لوگوں کے لیے کامیابی"

پیراگلائیڈنگ پاکستان کے دلکش شمالی علاقہ جات میں ایک منافع بخش کاروبار ہے جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ دور دراز، بنجر بلوچستان میں پیراگلائیڈنگ سے ناواقف ہیں۔

اشرف کہتے ہیں کہ وہ صوبے میں ذاتی پیراموٹر بنانے والے پہلے شخص ہیں جنہوں نے 28 اکتوبر کو پشین ضلع میں اپنے آبائی شہر بوستان کے ایک گاؤں میں اپنی اولین کامیاب پرواز مکمل کی۔

انہوں نے یاد کیا، "میں پہلی پرواز کے لیے اپنا دو سیٹوں والا پیرا گلائیڈر نکالنے سے پہلے کافی گھبرایا ہوا تھا لیکن میں نے تین منٹ تک آسمان میں 300 فٹ کی بلندی تک پرواز کی۔ میرا خاندان، دوست اور گاؤں کے دوسرے لوگ بہت خوش تھے جب میں واپس زمین پر اترا۔"

بوستان کے ایک یونین کونسلر محمد اعظم بازئی نے اشرف کے مقامی طور پر تیار کردہ پیراموٹر کو "بلوچستان کے لوگوں کے لیے ایک کارنامہ" قرار دیا اور صوبائی حکومت سے درخواست کی کہ وہ صوبے میں پیرا گلائیڈنگ کی سیاحت کو فروغ دینے میں اشرف کی مدد کرے۔

بازئی نے کہا، "ہم شروع میں اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ان کا طیارہ کبھی اڑ سکے گا۔ لیکن جب انہوں نے پیرا گلائیڈر اڑایا تو میں اس قدر خوش تھا کہ میں اس اظہار نہیں کر سکتا۔"

محمد اشرف (بائیں طرف سے دوسرے) اپنے گاؤں میں مقامی لوگوں کے ساتھ ہیں۔ (اے این)
محمد اشرف (بائیں طرف سے دوسرے) اپنے گاؤں میں مقامی لوگوں کے ساتھ ہیں۔ (اے این)

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ حکومت اشرف کے منصوبے کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لے گی۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "ماضی میں حکومت نے بلوچستان کے نوجوانوں کے ایسے کاموں اور مثبت اقدامات کو فروغ دیا ہے۔ اور اگر اس میں کوئی پیشہ ورانہ یا تجارتی صلاحیت ہے تو حکومتِ بلوچستان اس فرد کی ضرور حمایت کرے گی۔"

اپنی اڑنے والی مشین کو کامیابی سے بنانے کے بعد اشرف اب اسے زیادہ طاقتور انجن کے ساتھ تین سیٹوں پر اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں اور بلوچستان میں پرواز کے شوقین افراد کے لیے مزید پیراموٹرز بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

مکینک نے پرواز کے لیے اپنے پیرا گلائیڈر پر سوار ہوتے ہوئے کہا، "میں ان لوگوں کو سکھانے کی کوشش کروں گا جو اسے بنانا اور اڑانا سیکھنا چاہتے ہیں۔ جو بھی بلوچستان میں سیکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے، میں اس کی مدد کے لیے حاضر ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں