لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ فوج سکیورٹی منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے جو دریائے لیتانی کے جنوب سے شروع ہوتا ہے، تاکہ تمام لبنانی اور فلسطینی جماعتوں سے ہتھیاروں کے مظاہر ختم کیے جائیں، تاہم اسرائیلی قبضہ چند لبنانی علاقوں پر برقرار رہنے کے باعث فوج بین الاقوامی سرحد تک پھیلاؤ مکمل نہیں کر پا رہی۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو قصرِ جمہوری بعبدا میں فرانسیسی خصوصی ایلچی ژاں ایو لودریان سے ملاقات کے دوران کہی۔
صدر عون نے کہا کہ لبنان کئی بار اسرائیل کو پابند کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ 27 نومبر کو اعلان کردہ معاہدے کی پاسداری کرے، مگر اسرائیل نے نہ صرف ان مطالبات کو نظرانداز کیا بلکہ حملے جاری رکھے، کسی بھی لبنانی قیدی کو رہا نہیں کیا اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر بھی عمل درآمد نہیں کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل پر فرانسیسی یا امریکی دباؤ، تاکہ وہ عالمی برادری کے مطالبے پر دشمنی بند کرے، فوجی منصوبے کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوگا جسے گزشتہ ہفتے کابینہ نے منظور کیا تھا۔
الرئيس عون خلال استقباله الموفد الرئاسي الفرنسي جان ايف لودريان:
— Lebanese Presidency (@LBpresidency) September 11, 2025
- أي ضغط فرنسي او أميركي على إسرائيل لوقف الأعمال العدائية سوف يساعد على استكمال الخطة الأمنية التي وضعها الجيش ورحب بها مجلس الوزراء.
- التماسك والتضامن بين اللبنانيين ثابتة لا جدال فيها ولا خوف عليها وما من أحد… pic.twitter.com/VpglGWoBvj
صدر عون کے مطابق فوج ملک بھر اور سرحدی علاقوں میں کام جاری رکھے ہوئے ہے، چوکیاں اور ناکے قائم کیے جا رہے ہیں اور ہر طرح کے ہتھیار و گولہ بارود ضبط کرنے کے واضح احکامات دیے گئے ہیں۔
یونیفل کی مدت میں توسیع
صدر عون نے فرانس کے صدر عمانویل میکروں اور فرانسیسی سفارت کاری کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی کاوشوں سے اقوام متحدہ کی امن فوج "یونیفل" کی مدت ایک سال چار ماہ بڑھائی گئی اور جنوبی لبنان سے واپسی کے لیے ایک سالہ منصوبہ منظور ہوا۔ ان کے بقول یہ مدت واپسی کو منظم بنائے گی اور لبنانی فوج کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے کا موقع دے گی، خاص طور پر اگر اسرائیل پیچھے ہٹ جائے اور اپنی جارحیت بند کرے۔
انہوں نے فوجی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے دو بین الاقوامی کانفرنسوں کی تیاری پر ماکرون کی کوششوں پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ لبنان معاشی و مالی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے، یہ صرف عالمی مطالبہ نہیں بلکہ لبنانی قیادت کی اپنی پختہ رائے ہے کہ انہی اصلاحات کے ذریعے معیشت کی بحالی ممکن ہے۔
اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کا موقف
واضح رہے کہ اسرائیل 27 نومبر کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جنوبی اور مشرقی لبنان پر تقریباً روزانہ فضائی حملے کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی افواج پانچ اسٹریٹجک مقامات پر بدستور موجود ہیں جو سرحد کے دونوں طرف نظر رکھتے ہیں۔
لبنانی حکومت نے گزشتہ ہفتے فوج کے مجوزہ منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اسلحہ صرف ریاست کے پاس رہے گا۔ اس مقصد کے لیے فوج نے اقوام متحدہ کی امن فوج "یونیفل" کے تعاون سے جنوبی علاقوں میں تعیناتی بڑھا دی ہے۔
تاہم حزب اللہ نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی انخلا اور جارحیت کے خاتمے کے بغیر وہ اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گا، علاوہ ازیں قیدی لبنانی شہریوں کی رہائی بھی اس کی بنیادی شرط ہے۔
-
لبنان تین ماہ کے اندر اسرائیل کی سرحد کے قریب حزب اللہ کو غیر مسلح کر دے گا: وزیر
لبنان کی فوج تین ماہ کے اندر اسرائیل کی سرحد کے قریب حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر ...
مشرق وسطی -
لبنان سے 60 لاکھ منشیات کی گولیاں سعودی عرب سمگل کرنے کی کوشش ناکام
سمگلنگ میں ملوث افراد کو بیروت میں گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے تقریباً 80 ...
ایڈیٹر کی پسند -
جنوبی لبنان اور البقاع پر اسرائیلی فضائی حملے، حزب اللہ کا ایک مرکز نشانہ بنا
العربیہ کی جنگی وقائع نگار کے مطابق، عين بعال سے البازوریہ تک جانے والی سڑک پر ...
مشرق وسطی