ہمارے علاقوں پر اسرائیلی قبضہ فوجی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ہے: لبنانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ فوج سکیورٹی منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے جو دریائے لیتانی کے جنوب سے شروع ہوتا ہے، تاکہ تمام لبنانی اور فلسطینی جماعتوں سے ہتھیاروں کے مظاہر ختم کیے جائیں، تاہم اسرائیلی قبضہ چند لبنانی علاقوں پر برقرار رہنے کے باعث فوج بین الاقوامی سرحد تک پھیلاؤ مکمل نہیں کر پا رہی۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو قصرِ جمہوری بعبدا میں فرانسیسی خصوصی ایلچی ژاں ایو لودریان سے ملاقات کے دوران کہی۔

صدر عون نے کہا کہ لبنان کئی بار اسرائیل کو پابند کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ 27 نومبر کو اعلان کردہ معاہدے کی پاسداری کرے، مگر اسرائیل نے نہ صرف ان مطالبات کو نظرانداز کیا بلکہ حملے جاری رکھے، کسی بھی لبنانی قیدی کو رہا نہیں کیا اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر بھی عمل درآمد نہیں کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل پر فرانسیسی یا امریکی دباؤ، تاکہ وہ عالمی برادری کے مطالبے پر دشمنی بند کرے، فوجی منصوبے کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوگا جسے گزشتہ ہفتے کابینہ نے منظور کیا تھا۔

صدر عون کے مطابق فوج ملک بھر اور سرحدی علاقوں میں کام جاری رکھے ہوئے ہے، چوکیاں اور ناکے قائم کیے جا رہے ہیں اور ہر طرح کے ہتھیار و گولہ بارود ضبط کرنے کے واضح احکامات دیے گئے ہیں۔

یونیفل کی مدت میں توسیع

صدر عون نے فرانس کے صدر عمانویل میکروں اور فرانسیسی سفارت کاری کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی کاوشوں سے اقوام متحدہ کی امن فوج "یونیفل" کی مدت ایک سال چار ماہ بڑھائی گئی اور جنوبی لبنان سے واپسی کے لیے ایک سالہ منصوبہ منظور ہوا۔ ان کے بقول یہ مدت واپسی کو منظم بنائے گی اور لبنانی فوج کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے کا موقع دے گی، خاص طور پر اگر اسرائیل پیچھے ہٹ جائے اور اپنی جارحیت بند کرے۔

انہوں نے فوجی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے دو بین الاقوامی کانفرنسوں کی تیاری پر ماکرون کی کوششوں پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ لبنان معاشی و مالی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے، یہ صرف عالمی مطالبہ نہیں بلکہ لبنانی قیادت کی اپنی پختہ رائے ہے کہ انہی اصلاحات کے ذریعے معیشت کی بحالی ممکن ہے۔

اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کا موقف

واضح رہے کہ اسرائیل 27 نومبر کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جنوبی اور مشرقی لبنان پر تقریباً روزانہ فضائی حملے کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی افواج پانچ اسٹریٹجک مقامات پر بدستور موجود ہیں جو سرحد کے دونوں طرف نظر رکھتے ہیں۔

لبنانی حکومت نے گزشتہ ہفتے فوج کے مجوزہ منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اسلحہ صرف ریاست کے پاس رہے گا۔ اس مقصد کے لیے فوج نے اقوام متحدہ کی امن فوج "یونیفل" کے تعاون سے جنوبی علاقوں میں تعیناتی بڑھا دی ہے۔

تاہم حزب اللہ نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی انخلا اور جارحیت کے خاتمے کے بغیر وہ اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گا، علاوہ ازیں قیدی لبنانی شہریوں کی رہائی بھی اس کی بنیادی شرط ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size