امریکہ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے فریقین کم از کم تین ماہ کے لیے جنگ بندی کر دیں۔ ان ممالک کی طرف سے یہ مطالبہ جمعہ کے روز سامنے آیا ہے۔ جس میں سوڈانی جنگ کے فریقین سے انسانی بنیادوں پر لڑائی روکنے کا کہا گیا ہے۔
مشترکہ بیان میں فوری طور پر تین ماہ کی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ نیز قرار دیا گیا ہے کہ سوڈان کے مستقبل کا فیصلہ تشدد اور انتہا پسندی کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا۔
مسلم بھائی چارے سے منسلک ہونے کے باوجود ان تشدد پسند گروپوں نے اپنے اثر و رسوخ کو عدم استحکام کے ساتھ وابستہ کردیا ہے۔ جس سے ان کے اپنے ہی لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔
چار ملکوں کے جمعہ کے روز جاری کیے گئے اس مشترکہ بیان میں قرار دیا گیا ہے کہ سوڈان جنگ کی صورت میں بد ترین انسانی المیہ جاری ہے۔ یہ مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال پورے علاقے کے امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرناک ہے۔
ان چاروں ممالک نے سوڈان میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے تین ماہ کے لیے ایسی جنگ بندی کا مطالبہ کیا جو آنے والے دنوں میں مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ بن سکے۔ بعد ازاں ملکی اقتدار ایک سویلین قیادت کے حوالے کیا جاسکے ۔ کیونکہ ان کے مطابق مسئلے کا کوئی بھی فوجی حل نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ جنگی راستہ مسائل کو سنگین تر کرنے کا باعث بنتا چلا جائے گا۔
وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کے مطابق سوڈان کی خود مختاری و اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی فوجی حل نہیں پر امن حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
اس جنگ کے فریقوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جدہ ڈکلیریشن کے تحت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور سول انفراسٹرکچر کو تباہ نہ کریں۔
بیان میں بحیرہ احمر میں استحکام لانے کے لیے بھی سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز ( آر ایس ایف) کو باہم تصفیہ کرنے کے لیے کہا۔ وزرائے خارجہ نے اسی ماہ کے اواخر میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔