ڈیموکریٹس کے زیرِ قیادت امریکی سینیٹ میں قرارداد: فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

ایوانِ نمائندگان کے ساتھ ساتھ امریکی عوام کی سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی سینیٹرز کے ایک گروپ نے جمعرات کو سینیٹ میں پہلی ایسی قرارداد پیش کی جس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر زور دیا گیا۔ اس قرارداد سے غزہ جنگ میں اسرائیل کے حوالے سے واشنگٹن کے جذبات میں مزید تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔

ڈیموکریٹس کے زیرِ قیادت اس قرارداد کی ایوان سے منظوری کا امکان نہیں ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ریپبلکنز کو 53-47 کی اکثریت حاصل ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے پر اختلاف کیا اور کہا کہ کوئی بھی ریپبلکن اس کوشش میں شامل نہیں ہوا۔

اس اقدام کی قیادت کرنے والے اوریگون کے ڈیموکریٹ جیف مرکلے نے ایک بیان میں کہا: "امریکہ پر قیادت کی ذمہ داری ہے اور عمل کرنے کا یہی وقت ہے۔"

مرکلے نے کہا، قرارداد میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایک محفوظ اسرائیل کے ساتھ غیر فوجی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے اور یہ امن کے امکانات کو تقویت دیتے ہوئے فریقین کو امید فراہم کرے گی۔

ایوانِ نمائندگان میں کیلیفورنیا کے رو خانا کا ایک خط زیرِ گردش ہے جس سے انہیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت حاصل کرنے کی امید ہے۔

اب جبکہ غزہ جنگ کو دو سال ہونے والے ہیں تو یہ اقدامات قانون سازوں کے نکتۂ نظر میں ایک تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور غزہ میں انسانی بحران کی شدت کم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہے۔

سینیٹ کی قرارداد کے دیگر شریک معاونین میں میری لینڈ کے کرس وان ہولن، ورجینیا کے ٹم کین، ورمونٹ کے پیٹر ویلچ، مینیسوٹا کی ٹینا سمتھ، وسکونسن کے ٹمی بالڈون اور ہوائی کے مازی ہیرونو کے علاوہ ورمونٹ کے ڈیموکریٹ برنی سینڈرز ہیں۔

سینڈرز بدھ کو غزہ میں ہونے والے واقعات کو نسل کشی قرار دینے والے اولین امریکی سینیٹر بن گئے۔

اقوامِ متحدہ کے کمیشن آف انکوائری نے اس ہفتے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ یہ نتائج جانبدارانہ اور غیر تصدیق شدہ شواہد پر مبنی تھے۔

امریکہ کے معدودے چند اتحادی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ عالمی رہنما اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

گذشتہ ماہ رائٹرز/اِپسوس کے رائے عامہ کے جائزے سے ظاہر ہوا کہ امریکیوں کی اکثریت – 58 فیصد – کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ میں ہر رکن ملک کو فلسطین کو ایک قوم کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں