جرمنی کے حکمران اتحاد میں شامل ایک قدامت پسند پارٹی نے جمعے کو کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی امداد عارضی طور پر روک دے گی۔ ایسا اس خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے کہ نقد رقم اسرائیل کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔
مرکزی بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹس (ایس پی ڈی) کے ترقیاتی وزیر ریم البالی رادوان نے گذشتہ ماہ خطے کے دورے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے لیے 30 ملین یورو (35 ملین ڈالر) دینے کا وعدہ کیا تھا۔
لیکن قدامت پسند سی ایس یو پارٹی کے پارلیمانی لیڈر الیگزینڈر ہوفمین نے بِلڈ اخبار کو بتایا کہ پارٹی اس معاملے میں مزید "وضاحت" چاہتی تھی۔
ہوفمین کے ترجمان نے اے ایف پی کو اپنے تبصروں کی تصدیق کی کہ "انسانی مدد اہم ہے لیکن فنڈز کی منظوری سے قبل یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ رقم کن ٹھوس منصوبوں کے لیے استعمال ہو گی۔ اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے منصوبوں کو خارج کر دینا چاہیے۔"
جرمن حکومت کے ذرائع نے بتایا، یہ رقم صحت اور تعلیم کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے استعمال ہو گی اور یورپی یونین کے زیرِ انتظام طریقہ کار کے تحت تقسیم کی جائے گی۔
سی ایس یو پارٹی جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی سی ڈی یو کی باویریا ریاست کی ہم منصب ہے اور یہ جرمنی میں اسرائیل کی کٹر حامی جماعتوں میں شامل رہی ہے جبکہ ایس پی ڈی کسی حد تک زیادہ تنقیدی رہی ہے۔
اتحاد میں موجود ذرائع نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ سی ایس یو نے پارلیمنٹ میں رقم کی منظوری روک دی تھی۔
مرز کے ترجمان سیباسٹین ہل نے کہا، حکومت کا اس معاملے پر "مشترکہ مؤقف" ہے لیکن اسے پارلیمانی منظوری کا انتظار کرنا ہو گا۔