امریکی ویزوں کے اجرا کے لیےایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس کا اطلاق آج اتوار کے روز سے شروع ہو جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ہفتے کے روز یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ ویزہ فیس پرانے 'ایچ ون بی' ویزے رکھنے والوں کو ادا نہیں کرنا ہو گی ۔ صرف نئی وہزہ درخواستوں کے ساتھ ادائیگی لازمی ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیولین لیویٹ نے ہفتے کے روز یہ بھی وضاحت کرکے لوگوں میں پائی جانے والی تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ' ایچ ون بی 'ویزوں کے لیے یہ فیس ہر سال ٹیکس کی طرح ادا نہیں کرنا ہوگی بلکہ صرف ایک بار ویزہ کی درخواست دینے والوں کو دینا ہوگی۔ ترجمان نے یہ وضاحت سوشل میڈیا پلیٹ فارم' ایکس' پر جاری کیا ہے۔
یاد رہے صدر ٹرمپ کی ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے رنگا رنگ اقدامات جاری ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ دوسرے ملکوں اور ان کے شہریوں سے پیسہ نکلوایا جائے اور امریکی خزانے میں ڈالا جائے۔ اسلیے ایک جانب ٹیرف کی غیر مثالی پالیسی جاری کی گئی ہے اور دوسری جانب امریکی کمپنیوں میں کام کے خواہشمند تعلیم و تجربہ رکھنے والے غیر ملکیوں سے بھاری ویزا فیس کا نیا طریقہ رائج کر رہے ہیں۔
اس نئی ویزا فیس کے اعلان کے بعد امریکی کمپنی مالکان کو بھی خوف محسوس ہوا کہ ان کے وہ کارکن بھی اس پالیسی کی زد میں آئیں گے جو آج کل کسی کام سے یا چھٹی پر امریکہ سے باہر ہیں۔ اس لیے کئی کمپنیوں نے ایک ہنگامی ای میل جاری کر کے بیرون امریکہ موجود اپنے تمام کارکنوں کو فوری طور پر امریکہ پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے مطابق مائیکروسافٹ ، جے پی مورگن اور ایمازون کی طرف سے ایچ ون بی ویزا رکھنے والے کارکنوں کو ای میل بھیجی گئی ہے۔ ای میل میں کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ میں ہی رہیں۔
امریکی کمپنیوں کو یہ بھی خوف ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں ان کے کاروبار اور کارکنوں دونوں کو متاثر کر یں گی۔ نتیجتا امریکی معیشت پہلےکے مقابلے میں کمزوری کے راستے پر چل نکلے گی۔
امریکی وزیر تجارت ہوورڈ لیوتنک نے جمعہ کے روز خبر دار کیا تھا کہ ' ایچ ون بی ' ہولڈروں کو ہر سال ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ابھی پالیسی کی تفصیلات آنا باقی ہیں۔
تاہم ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے وضاحت جاری کر کے تشویش میں کمی کی کوشش کی ہے۔ یہ فیس سالانہ نہیں ہے۔ صرف ایک بار دینا ہوگی۔ مگر وائٹ ہاؤس کی
ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیس پہلے سے 'ایچ ون بی' ویزہ رکھنے والوں کو ادا نہیں کرنا ہوگی۔ نئی فیس کا اطلاق نئے ویزوں پر ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ فیس امریکہ کے مقامی کارکنوں کے لیے عائد کی گئی ہے جنہیں امریکی کمپنیاں کم تنخواہوں پر رکھتی ہیں۔ اور غیر
ملکیوں کو زیادہ ادائیگی کرتی ہیں۔اس حکم نامے پر صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز دستخط کر دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے سے سب سے زیادہ بھارت کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ ' ایچ ون بی ' قسم کے اہم ویزوں کا ستر فیصد سے زائد حصہ بھارتی شہری استعمال کرتےہیں۔
اس لیے بھارتی نیسکام نے اس بارے میں اپنا فوری رد عمل دیا ہے۔ اس ادارے کے تحت 283 ارب ڈالر مالیت کی ڈیلز عالمی سطح پر کی جاتی ہیں۔امریکی ویزا پالیسی کے بدلے جانے سے بھارتی کمپنیوں کو افرادی قوت کی مشکلات کا اندیشہ ہوگا۔ خدشہ ہے کہ ملک کے جاری آئی ٹی منصوبے بھی متاثر ہوں گے اور ٹیکنالوجی سروسز پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔