گذشتہ صدیوں کے دوران 1868میں میجی کی بحالی کو جدید جاپانی تاریخ کا ایک اہم واقعہ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد جاپان نے انتظامی، اقتصادی، صنعتی اور فوجی اصلاحات کیں جن کی بدولت اس نے تیزی سے ایک علاقائی طاقت کے طور پر قدم جما لیے۔
اس کے بعد جاپان نے مزید قدرتی وسائل اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی امید میں خطے میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ تاہم جاپان اور مشرقی ایشیا میں روس کے توسیع پسندانہ عزائم میں تصادم 1904 کی روس-جاپان جنگ کی وجہ بن گیا۔ اس جنگ میں روس کو دھچکا لگا کیونکہ اس کی بحریہ کو جاپانیوں کے ہاتھوں متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔
گرینڈ ڈیوک ذمہ دار قرار
جنگ کے اختتام پر روسیوں نے اس شکست کے ذمہ داروں کا سراغ لگایا اور گرینڈ ڈیوک الیگزی الیگزینڈرووک کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جو 1850 میں زار الیگزینڈر دوم اور ان کی پہلی بیوی ماریا الیگزینڈروونا کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ان کا پانچواں بچہ تھا۔
ابتدائی عمر سے الیگزی کو بحریہ کے فوجی سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا گیا تاکہ انہیں روسی بحریہ میں ایک اعلیٰ عہدے کے لئے تیار کیا جا سکے۔
بیس سال کی عمر میں انہوں نے روسی بحریہ میں لیفٹیننٹ کا عہدہ حاصل کیا۔ 1883 تک وہ ایڈمرل کا درجہ حاصل کر چکے تھے۔
دنیا کی طاقتور ترین بحریہ
کئی برسوں کے دوران الیگزینڈرووک نے روسی بحریہ کے اندر ایک اہم کردار ادا کیا جو ہتھیاروں کے سودے مکمل کرتے اور ریاستی خزانے سے جہاز سازی کے پروگراموں کی منظوری اور مالی اعانت فراہم کرتے تھے۔
ساتھ ہی انہوں نے فوجی بندرگاہوں کی بحالی کے منصوبوں کی حمایت کی۔
اس عرصے کے دوران انہیں روسی بحریہ کو طاقتور ترین جنگی جہازوں کی فراہمی کا کام بھی سونپا گیا جس سے وہ دنیا کی صفِ اول کی بحری قوت میں تبدیل ہو جائے۔
شکست اور سکینڈلز
تاہم الیگزینڈروک کی زندگی سکینڈلز سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ ایڈمرل پر ایک سے زیادہ مواقع پر عوامی فنڈز کے ضیاع اور اپنے ذاتی فائدے کے لیے بحریہ کے اثاثہ جات میں غبن کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
الیگزی پر رقاصہ اور بیلرینا الزبتھ بیلیٹا سے بدکاری کا الزام بھی لگایا گیا۔اس سے گرینڈ ڈیوک کے خاندان کی شہرت داغدار ہوئی خاص طور پر جب اس معاشقے کی کہانی زبان زدِ عام ہو گئی۔
انیس سو چار-پانچ کی روس-جاپان جنگ کے دوران مئی 1905 کے آخر میں آبنائے سوشیما کی لڑائی کے دوران روسی بحریہ کو شدید دھچکا لگا۔
صرف 24 گھنٹوں میں روسیوں کے 21 اہم ترین بحری جہاز تباہ ہو گئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق بالٹک فلیٹ سے تھا۔
اس کے علاوہ اس جنگ میں تقریباً 5000 روسی ملاح ہلاک ہو گئے۔ آبنائے سوشیما کی جنگ نے یورپی طاقتوں کو دنگ کر دیا اور روس میں غم و غصہ پیدا کرنے کا سبب بنی۔
اس شکست کے بعد روسی سلطنت پرامن حل کی طرف زیادہ مائل ہوئی اور بعد میں جاپانی فریق سے باضابطہ مذاکرات شروع کرنے پر رضامند ہو گئی۔
جنگ کے بعد روس کو 1905 کے انقلاب کا تجربہ ہوا جس کے دوران روسیوں نے جاپان سے جنگ کے نتائج اور سماجی زندگی کا زوال مسترد کرنے کا اظہار کیا۔
اسی دوران جاپان کے ہاتھوں شکست کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور الیگزی الیگزینڈرووک کا نام سامنے آیا۔
"انہوں نے ہمارے جنگی بحری جہاز اپنے کانوں میں پہن رکھے ہیں۔"
اس وقت کے ذرائع کے مطابق مؤخر الذکر پیرس میں ایک بہت بڑے محل کے مالک تھے جہاں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے تھے اور اس کے ساتھ وہ فرانس کے دارالحکومت کی سڑکوں پر بغیر کسی شرمندگی کے گھومتے تھے۔
روسی گرینڈ ڈیوک نے اپنی اہلیہ کو مہنگے زیورات بھی تحفے میں دیئے۔ مزید برآں اطلاعات میں 1903 میں تقریباً 30 ملین روبل کی پراسرار گمشدگی کی بات کی گئی تھی جو بحریہ کے نصف بجٹ کے برابر تھا جبکہ اس عرصے کے دوران روسی بحریہ نے کوئی نیا بحری جہاز حاصل نہیں کیا۔
رقاصہ الزبتھ بیلیٹا 1905 میں بڑی تعداد میں زیورات پہنے ہوئے سینٹ پیٹرز برگ کے ایک سٹیج پر نمودار ہوئیں۔ انہیں دیکھ کر حاضرین نے شور مچانا شروع کر دیا، "وہ ہمارے جنگی جہاز اپنے کانوں اور انگلیوں میں پہنے ہوئے ہیں۔"
الیگزینڈرووک کو جون 1905 تک ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا اور بعد میں وہ پیرس چلے گئے جہاں 1908 میں ان کا انتقال ہو گیا۔