29 گھنٹے : دنیا کی طویل ترین براہ راست پرواز کے لیے ٹکٹ کی فروخت شروع
پرواز دو گھنٹے کے لیے ایندھن بھرنے کے لیے رکے گی، اس دوران مسافروں کو اترنے کی اجازت نہیں ہوگی
ویب سائٹ ” بزنس انسائڈر “ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ” چائنا ایسٹرن ایئر لائنز “ نے اپنی اس پرواز کے لیے ٹکٹ فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں جو دنیا کی طویل ترین براہ راست پرواز بننے والی ہے۔ یہ پرواز بحر الکاہل کے پار تقریباً 12,000 میل تک پھیلی ہوگی۔ یہ پرواز چین کے شنگھائی سے ارجنٹائن کے بیونس آئرس تک 29 گھنٹے کے مقررہ وقت میں اڑے گی۔
یہ دسمبر 2025 میں اپنی کارروائیاں شروع کرنے والی ہے ۔ اس راستے کے لیے منتخب ہونے والا بوئنگ "777-300ER" طیارہ نیوزی لینڈ کے آکلینڈ میں ایندھن بھرنے کے لیے دو گھنٹے کے لیے رکے گا۔ تاہم مسافر اس تکنیکی رکاوٹ کے دوران طیارے میں رہیں گے جس سے یہ رکاوٹ کے باوجود براہ راست پرواز کی درجہ بندی برقرار رکھے گی۔
چائنا ایسٹرن ایئر لائنز کی پرواز کے راستے کی تفصیلات اور فلائٹ شیڈول کو دیکھا جائے تو چائنا ایسٹرن ایئر لائنز کی پرواز ” 746 “ بیونس آئرس سے شنگھائی تک ہفتے میں دو بار منگل اور جمعہ کو واپس آئے گی۔ میگزین ” بزنس ٹریولر “نے رپورٹ کیا ہے کہ شنگھائی سے بیونس آئرس کے لیے روانہ ہونے والی فلائٹ نمبر 745 پیر اور جمعرات کو کام کرے گی اور یہ 4 دسمبر سے شروع ہوگی۔ اس کا دورانیہ سازگار ہواؤں کی وجہ سے تھوڑا کم یعنی تقریباً 25.5 گھنٹے ہوگا۔
مسافروں کو اس طویل مدت اور پریمیم قیمت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ دسمبر کی پروازوں کے لیے صرف ایک طرفہ اکانومی کلاس کے ٹکٹ چائنا ایسٹرن ایئر لائن کی ویب سائٹ پر 1538 سے 2270 امریکی ڈالر کے درمیان کی قیمتوں پر فروخت ہو رہے ہیں۔ بزنس کلاس کے ٹکٹوں کی قیمت تقریبا 5000 امریکی ڈالر سے شروع ہو رہی ہے۔ یہ کلاس تقریباً ڈیڑھ دن کی پرواز کے دوران فلیٹ بیڈز کا اہم فائدہ فراہم کرے گی۔
” ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ “ کے مطابق چائنا ایسٹرن کی نئی لائن جنوبی نصف کرہ کے ذریعے جنوبی امریکہ کے لیے ایئر لائن کی پہلی سروس کی نمائندگی کرتی ہے جو روایتی امریکی یا یورپی سٹاپ اوورز کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک براہ راست رابطہ فراہم کرتی ہے۔ ویب سائٹ ” بزنس ٹریولر “ نے بتایا ہے کہ ایئر لائن بیونس آئرس اور آکلینڈ کے درمیان ایک ایئر لائن بنانے کا موقع بھی استعمال کر سکتی ہے۔
آکلینڈ ایئرپورٹ کی سی ای او کیری ہوری ہنگانی نے نئی سروس کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ نئی سروس نیوزی لینڈ اور ارجنٹائن کے درمیان براہ راست پروازوں کو دوبارہ جوڑے گی جو سیاحت، تجارت اور بین الاقوامی تعلیم کو فروغ دے گی۔ یہ پرواز نیوزی لینڈ میں رہنے والے 40,000 جنوبی امریکی شہریوں کے لیے ایک نیا رابطہ بھی فراہم کرے گی۔