عالمی عدالت غزہ نسل کشی کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کرے، جنگ کے 'عفریت' کا خاتمہ ہو
’فلسطینی عوام کی اجتماعی سزا کا کوئی جواز نہیں‘: گوٹیرس
اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے منگل کے روز غزہ نسل کشی کیس میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے جاری کردہ پابند اقدامات پر فوری عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد سے فلسطینی علاقے میں انسانی بحران مزید شدید ہو گیا ہے اور جنگ "تیسرے خوفناک سال" میں داخل ہونے والی ہے۔
انتونیو گوٹیرس نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں اعلیٰ سطحی مباحثے کے آغاز پر مجتمع عالمی رہنماؤں سے کہا: "آئی سی جے ( بین الاقوامی عدالتِ انصاف) کے طے کردہ اقدامات کو مکمل اور فوری طور پر نافذ ہونا چاہیے۔"
اقوام متحدہ کے اعلیٰ قانونی ادارے آئی سی جے نے اس سال کے شروع میں نسل کشی کنونشن کے تحت اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات جاری کیے تھے۔
گوٹیرس نے کہا، اس فیصلے کے بعد سے غزہ میں قحط کا اعلان ہوا اور تشدد میں شدت آ گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو مسلسل فوجی حملے کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، "موت اور تباہی کی یہ سطح سیکرٹری جنرل کے طور پر میرے عہدے کے دوران کسی بھی دوسرے تنازعے سے کہیں زیادہ ہے۔"
انہوں نے سات اکتوبر 2023 کے حملے کی مذمت کی لیکن اس بات پر زور دیا کہ "فلسطینی عوام کی اجتماعی سزا اور غزہ کی منظم تباہی" کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اسرائیل-فلسطین تنازعہ کا واحد طویل مدتی حل اسرائیل کے شانہ بشانہ ایک قابلِ عمل، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہا، "دو ریاستی حل کے نفاذ کے علاوہ آبادکاروں کی مسلسل توسیع اور تشدد اور الحاق کا بڑھتا ہوا خطرہ بھی روکا جائے۔"
گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات و اسرائیل نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔
تفتیش کاروں نے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ نسل کشی کے سلسلے میں خاموشی اس میں ملوث ہونے کے مترادف ہے اور ان پر زور دیا کہ وہ نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اسے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔
انکلیو میں آزاد انسانی رسائی اور صحافتی رپورٹنگ پر بہت زیادہ پابندیاں ہیں۔
گوٹیرس نے جنرل اسمبلی کو بتایا، "ہم جانتے ہیں کہ کیا ضروری ہے۔ فوری مستقل جنگ بندی، تمام قیدیوں کی فوری رہائی، فوری مکمل انسانی رسائی۔"
گوٹیرس نے سوڈان کے بحران پر بھی روشنی ڈالی جہاں خانہ جنگی سے وسیع پیمانے پر شہری مصائب اور علاقائی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔
"سوڈان میں شہریوں کو ذبح کیا، بھوکا رکھا اور خاموش کیا جا رہا ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو ناقابلِ بیان تشدد کا سامنا ہے،" انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا، "میں تمام فریقوں بشمول اس ہال میں موجود افراد سے درخواست کرتا ہوں: اس خونریزی کو ہوا دینے والی بیرونی حمایت کو ختم کریں۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے دباؤ ڈالیں۔ سوڈانی عوام امن، وقار اور امید کے مستحق ہیں۔"
اپریل 2023 میں شروع ہونے والی سوڈان کی جنگ میں لاکھوں افراد بے گھر اور دنیا میں بھوک کا ایک بدترین بحران پیدا ہوا ہے جہاں اقوامِ متحدہ نے وسیع علاقوں میں قحط کا اعلان کیا ہے۔