امریکہ : ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے ملزم نے عدالت میں خود کشی کی کوشش کی

اس کی بیٹی اپنے والد کو دیکھ کر چیخ رہی تھی "خود کو نقصان مت پہنچائیں، میں آپ کو باہر نکال لوں گی"۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک عدالت میں منگل کو اس وقت ہنگامہ خیز منظر دیکھنے میں آیا جب 59 سالہ ريان روتھ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے الزام میں مجرم قرار دیے جانے کے فوراً بعد قلم سے اپنی گردن پر وار کرنے کی کوشش کی۔

امریکی ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب جیوری ارکان عدالت سے نکل رہے تھے کہ اچانک روتھ نے قلم اٹھا کر اپنی گردن میں گھونپنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی اہل کاروں نے فوری طور پر اسے قابو کر لیا جبکہ اس کی بیٹی سارہ چیختی ہوئی بولی: "بابا پلیز، ایسا مت کریں، میں آپ کو باہر نکال لوں گی، آپ نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔"

کچھ دیر بعد ملزم کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لگا کر دوبارہ عدالت میں لایا گیا، وہ سفید قمیض میں تھا اور اس پر کسی زخم کے آثار نہیں تھے۔ جج نے 18 دسمبر کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کی، جہاں اسے پانچ وفاقی الزامات، بشمول قتل کی کوشش، وفاقی افسر پر حملہ اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات میں ... عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

الزام کے مطابق روتھ نے کئی ہفتوں تک منصوبہ بندی کی اور 15 ستمبر 2024 کو ویسٹ پام بیچ میں ٹرمپ انٹرنیشنل گولف کلب کے قریب گھات لگائی۔ اس دوران ایک سروس سیکرٹ ایجنٹ نے اسے بندوق تھامے دیکھ لیا اور فائرنگ کر دی، جس پر روتھ بغیر گولی چلائے فرار ہو گیا۔ یہ واقعہ پنسلوینیا میں ٹرمپ پر ایک اور ناکام قاتلانہ حملے کے نو ہفتے بعد پیش آیا تھا، جس میں وہ معمولی زخمی ہوئے تھے۔

روتھ نے مقدمے میں وکیل کی خدمات لینے کے بجائے خود اپنی وکالت کی اور بعض "غیر سنجیدہ" دلائل دیے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ مقدمہ ٹرمپ کے ساتھ "گولف کا کھیل" کھیل کر طے کیا جائے، جس میں اگر وہ جیتے تو صدر بن جائے اور اگر ہارے تو اسے سزائے موت دی جائے۔

سماعت کے دوران جج ایلن کینن نے کئی بار اس کی گفتگو روکی کیونکہ وہ ہٹلر، پوتین اور نیتن یاہو جیسے رہنماؤں کے حوالے دینے لگا اور جیوری سے غیر متعلقہ سوالات پوچھنے لگا، جیسے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے یا فلسطین کے حامی طلبہ مظاہروں پر رائے وغیرہ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں