غزہ شہر پر اسرائیل کی بم باری جاری ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے آج جمعرات کو اعلان کیا کہ فلسطینی علاقے کے شمالی حصے میں جھڑپوں کے دوران ناحل بریگیڈ کا ایک فرسٹ سارجنٹ مارا گیا۔
فوج کی ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ہلاک ہونے والا فوجی ایک کیمپ میں گارڈ پوسٹ کی نگرانی کر رہا تھا جب اسے ایک نشانے باز نے گولی مار دی جو موقع سے فرار ہوگیا۔ یہ بات "ٹائمز آف اسرائیل" اخبار نے بتائی۔
شدید بم باری
اسی دوران اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں النصر محلے پر شدید بم باری کی۔ اسرائیلی فوج نے اپنی زمینی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی، توپ خانے نے الصبرہ، الطرج، الطفاح اور الزیتون کے محلوں پر درجنوں گولے داغے۔ ادھر شہر کے جنوب میں تل الہوا محلے میں بارود سے بھری بکتر بند گاڑیاں دھماکے سے اڑائی گئیں۔ اس دوران ٹینک اب بھی الاسرى چوراہے اور مالیہ کے اطراف میں موجود ہیں۔
النصر محلے میں "فائر بیلٹس" استعمال کرتے ہوئے رہائشی مکانات کو تباہ کیا گیا جبکہ اسرائیلی فوجی گاڑیاں طیاروں اور ڈرونز کی فضائی ڈھانپ میں پیچھے ہٹتے ہوئے الکرامہ چوراہے تک چلی گئیں۔
غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیلی فوج نے ان فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جو ایک فوجی راہ داری کے قریب امدادی سامان کے انتظار میں کھڑے تھے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
وسطی علاقے میں 20 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ الزوایدہ قصبے میں ایک رہائشی مکان پر بم باری میں مزید تین افراد جاں بحق ہوئے۔ امدادی ٹیمیں اب بھی ملبے تلے لا پتا افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔
ادھر غزہ کے طبی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ بدھ کی صبح سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں نصف کا تعلق غزہ شہر سے ہے۔
سات لاکھ بے گھر افراد
اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ اسرائیلی زمینی حملے نے غزہ شہر کے لاکھوں فلسطینیوں کو فرار پر مجبور کیا، جہاں صرف ایک دن میں ہزاروں افراد نے شہر چھوڑ دیا۔ ذرائع نے واضح کیا کہ شہر میں بے گھر افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر تقریباً 7 لاکھ ہو گئی ہے، جبکہ منگل کو یہ تعداد تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار تھی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حملے سے قبل غزہ شہر میں تقریباً 10 لاکھ فلسطینی رہائش پذیر تھے۔
اس موقع پر اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ حماس سے اپنی وابستگی توڑ دیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ "اگر تنظیم یرغمالیوں کو رہا کر دے اور اپنے ہتھیار ڈال دے تو جنگ اور مصیبت ختم ہو جائے گی۔" فوجی ذرائع کے مطابق زامیر نے کہا کہ غزہ شہر میں جاری حملہ یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کی شکست کے حالات پیدا کر رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین نے حملے کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی سلامتی پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اب بھی تقریباً 45 اسرائیلی یرغمالی غزہ میں قید ہیں۔ اسرائیلی اندازوں کے مطابق ان میں سے تقریباً نصف مارے جا چکے ہیں۔