ٹرمپ ۔ ایردوآن ملاقات کے بعد ترکیہ میں کٹر مسیحی قدیمی علوم کا مدرسہ دوبارہ کھلنے کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جلد کٹر مسیحی فرقے کے روحانی رہنما سے ملاقات کریں گے۔ تاکہ استنبول کے نزدیک اس مسیحی فرقے کے سکول کے کھلنے کی 50 سال بعد دوبارہ امید پیدا ہو سکے۔ یہ مسیحی فرقہ آرتھوڈوکس مسیحیت پر یقین رکھتا ہے اور تقریباً 300 ملین لوگ اس میں شامل ہیں۔

مسیحیوں کا مدرسہ 1844 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی کام ایک مشرقی مسیحی آرتھوڈوکس چرچ کے طور پر کام کرنا تھا۔ تاکہ مشرق سے تعلق رکھنے والی دنیا کے لیے ایک بڑے مسیحی سکول کا کام کرتا رہے۔

اس سکول نے دہائیوں تک مسیحی علماء تیار کیے۔ تاہم پچھلے 50 برسوں سے یہ بند پڑا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہا ہے اس چرچ اور مدرسہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے صدر ترکیہ سے بات ہوئی اور انہیں اسے کھولنے کے لیے کہا۔ صدر ترکیہ نے اسی ہفتے ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔

یاد رہے ترکیہ جو کہ ایک سیکولر ملک ہے۔ اپنے سیکولر نظریات کی وجہ سے 1971 میں اس تعلیمی ادارے کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے ترکیہ پر یونان، امریکہ و یورپی یونین کی طرف سے شدید دباؤ رہا۔

مسیحی مدرسے کی بندش ایک عدالتی فیصلے کی بنیاد پر کی گئی تھی ۔ عدالت نے قرار دیا تھا اس مدرسے کو مقامی یونیورسٹیوں سے خود کو رجسٹر کرنا چاہیے۔ مگر مدرسے کی مسیحی انتظامیہ نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اگر ایردوآن نے مدرسہ کھولا تو اس میں عدالتی فیصلے کو واپس کرایا جائے گا یا حکومت خود ہی اس فیصلے کو بدلنے پر قادر ہو جائے گی۔

تاہم ترکیہ کے زیادہ سیکولر حکومتوں کے ادوار میں اسے کھولا نہ جا سکا۔ اب طیب ایردوآن نے اس سلسلے میں ٹرمپ کی بات ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ سے طیب ایردوآن کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں کے پہلے عملی نتیجے کی طرف پیش قدمی کہا جا سکتا ہے۔

آرتھوڈوکس مسیحیوں کے لیڈر برتھولومیو نے کہا ہم اس سلسلے میں ترکیہ حکام سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یاد رہے ایردوآن نے صدر ٹرمپ سے کھلے الفاظ میں وعدہ کیا ہے جو بھی ممکن ہوا وہ اس سلسلے میں کریں گے۔ انہوں ترکیہ پہنچنے سے پہلے ہی یہ بھی کہا ہے کہ مجھے واپس پہنچ کر مسیحی لیڈر بارتھولومیو سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم ابھی ملاقات کا وقت یا دن فائنل نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بارتھولومیو اس پیش رفت پر صدر ٹرمپ اور صدر ایردوآن دونوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ کہ ان کی وجہ سے اس اہم مذہبی مدرسے کی مذہبی خدمات پھر سے شروع ہو سکیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں