وزیرِ خارجہ متحدہ عرب امارات نیتن یاہو کو الحاق کے خلاف خبردار کریں گے: عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک اماراتی عہدیدار نے العربیہ کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سفارت کار جمعہ کی شام اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ملاقات کریں گے تاکہ انہیں غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے سے آگاہ اور مغربی کنارے کے اسرائیلی ریاست میں انضمام سے متعلق کسی بھی اقدام سے خبردار کریں۔ شیخ عبداللہ بن زاید اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

قبل ازیں نیتن یاہو نے ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اس ہفتے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا اور دو ریاستی حل یا غزہ جنگ ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا۔

تاہم شیخ عبداللہ ان سے ٹرمپ کے "جرأت مندانہ منصوبے" پر بات کریں گے جو اس ہفتے ایک ملاقات کے دوران عرب اور مسلم رہنماؤں کو پیش کیا گیا۔ اماراتی اہلکار نے العربیہ کو بتایا، "وزیرِ خارجہ فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور وسیع تر خطے کے لیے دستیاب اس تاریخی موقع پر اور صدر ٹرمپ کی جرأت مندانہ قیادت میں یکجا ہونے کی عجلت پر زور دیں گے تاکہ یہ ضروری پیش رفت ممکن ہو۔"

جیسا کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کے الحاق کا عزم ظاہر کیا ہے تو خلیجی ریاستوں بشمول اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے والی ریاستوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل ایک سرخ لکیر بن جائے گا۔ سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کی ثالثی میں طے شدہ ابراہام معاہدے کے ایک رکن متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس عمل کے نتائج ہوں گے۔

ٹرمپ نے بھی اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہ دینے کا عزم کیا ہے۔ غزہ میں جنگ کے خاتمے پر گفتگو کرنے کے لیے وہ اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔

اماراتی اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ شیخ عبداللہ ابراہم معاہدے کے لیے ابوظبی کی وابستگی کا اعادہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں وسعت دینے کی صلاحیت پر بھی بات کریں گے۔ لیکن وہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے "حالیہ پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار بھی کریں گے بشمول ایسے اقدامات جن سے دو ریاستی حل کے امکانات کو خطرہ لاحق ہو۔"

عہدیدار نے مزید کہا، "وہ قطر پر بے باک حملے اور الحاق جیسے خطرناک اقدامات کے خلاف احتیاط کرنے سے متعلق بات کریں گے جو اس تاریخی کامیابی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔"

مزید برآں توقع ہے کہ اماراتی وزیرِ خارجہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل میں اضافہ کرنے کی فوری ضرورت اور اس بات کو یقینی بنانے پر پر زور دیں گے کہ یہ فوری اور مؤثر طریقے سے شہریوں تک پہنچے۔

العربیہ نے قبل ازیں ٹرمپ منصوبے کی تفصیلات شائع کی تھیں جس میں جنگ کا فوری خاتمہ اور غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں