ٹرمپ کی غزہ کی جنگ بندی کی خواہش کے سامنے کون سی رکاوٹیں ہیں ؟

سابق مصر سفیر عاطف سالم نے 21 نکاتی منصوبے کے حوالے سے ہر فریق کے نظریات میں خلا کی نشان دہی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی متوقع ملاقات سے پہلے جو آج پیر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ "ہمارے پاس مشرق وسطیٰ میں کچھ عظیم کرنے کا حقیقی موقع ہے ... سب کچھ پہلے سے مختلف ہونے کے لیے تیار ہے، یہ ایک تاریخی موقع ہے اور ہم اسے حاصل کریں گے"۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں غزہ منصوبے کے حوالے سے بڑے اختلافات موجود ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ معاہدے میں صرف جنگ بندی شامل ہو گی یا اس میں قیدیوں کی رہائی بھی ہو گی اور اس کے بعد غزہ میں کیا انتظامی اور سیاسی اقدامات ہوں گے۔ سابق مصری سفیر عاطف سالم نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ فوری طور پر کوئی معاہدہ آج یا کل متوقع نہیں، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان 21 نکات کے حوالے سے فکری خلا موجود ہے، نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے بغیر کوئی نرمی نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے ان کے اتحاد کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ایک فلسطینی خاندان وسطی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے سے تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے پر کھڑا ہے - 27 ستمبر 2025 اے ایف پی
ایک فلسطینی خاندان وسطی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے سے تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے پر کھڑا ہے - 27 ستمبر 2025 اے ایف پی

سفیر سالم کے مطابق امریکی سفیر کی مصر آمد میں تاخیر کی وجہ سے بھی مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے، اور امکان ہے کہ نکات میں ترامیم ہوں، جیسے فلسطینی ریاست پر بات چیت کے دروازے کھولنے کی شق، جس کے لیے کنیسٹ کی منظوری ضروری ہے۔ یہ جولائی میں 90 ووٹوں سے مسترد ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے بعد غزہ میں عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی، جس میں پانچ تکنیکی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو بحالی اور انتظامی امور سنبھالیں گی۔ یہ عبوری نظام پانچ سال تک قائم رہے گا تاکہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے بعد ذمہ داریاں منتقل کی جا سکیں۔

فوجی امور کے مصری ماہر اسامہ محمود کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات اچھی نیت ظاہر کرتے ہیں، لیکن بعض نکات مشکوک ہیں۔ مثال کے طور پر قیدیوں کی 48 گھنٹوں میں رہائی اور مکمل جنگ بندی کا نفاذ عملی طور پر پیچیدہ ہے، خاص طور پر اسرائیلی فوج کی موجودہ پوزیشنوں اور ہتھیاروں کے معاملے میں۔ نیتن یاہو کی سابقہ وعدہ خلافیوں اور ہتھیاروں کی تباہی کے طریقہ کار پر بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں، اور یہ تمام عوامل معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

مزید برآں حماس نے دو اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے کا اعلان کیا ہے جس سے معاہدے کی فوری توقع پر شکوک مزید بڑھ گئے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 میں حماس کے غیر معمولی حملے کے جواب میں شروع ہونے والی جنگ میں اب تک غزہ کی پٹی میں 66 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ حماس کے حملے میں 1219 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ حماس نے 251 اسرائیلی قیدی اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں