امریکی تیل کمپنیوں اور جہازوں پر جوابی پابندیاں لگائیں گے : یمنی حوثیوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن کے حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کی بڑی آئل کمپنیوں جن میں 'ایگزون موبل' اور 'شیوران' شامل ہیں۔ انہیں پابندیوں کا نشانہ بنائیں گے۔

یہ بات منگل کے روز ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے ایک فورم نے کہی ہے۔

صنعاء میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے رابطہ کاری کے مرکز 'ایچ او سی سی' کو پچھلے سال قائم کیا گیا تھا۔ تاکہ حوثی فورسز اور کمرشل شپنگ آپریٹر کے درمیان رابطہ کاری ہو سکے۔

اس نے اب تک 13 امریکی کمپنیوں اور 9 امریکی حکام پر پابندیوں کے علاوہ 2 جہازوں پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔

حوثیوں کے اس فورم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پابندیاں امریکی پابندیوں کے جواب میں ہیں جو انہوں نے حوثیوں کے خلاف اس سال عائد کی ہیں اور اس کے باوجود عائد کی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے سے یمنی حوثی گروپ نے بھی اتفاق کیا تھا اور امریکہ سے جڑے جہازوں کو بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں نشانہ بنانا چھوڑ دیا تھا۔

غیر جانبدار تجزیہ کار محمد الباشا کا کہنا ہے تاہم یہ اب بھی غیر واضح ہے کہ وہ ان کو نشانہ بھی بنائیں گے یا نہیں یا کوئی ایسی بات کریں گے جس سے جنگ بندی بھی متاثر ہوگی جو اومان کی مدد سے امریکہ کے ساتھ حوثیوں نے کر رکھی ہے۔

یاد رہے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے نومبر 2023 میں غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیلی جہازوں اور بعدازاں ان کے اتحادی جہازوں کو بھی بحیرہ احمر میں نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کچھ عرصہ قبل جنگ بندی ممکن ہوگئی تھی۔

اسی ہفتے حوثیوں کے حملے کے انداز میں ہالینڈ کے ایک کارگو بحری جہاز کو خلیج عدن میں نشانہ بنایا گیا۔ جس سے عملے کے دو کارکن زخمی ہوئے اور جہاز کو آگ لگ گئی۔ تاہم کسی بھی حملہ آور نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

امریکہ نے پچھلے سال 5 لاکھ بیرل تیل یومیہ برآمد کیا تھا۔ یہ تیل خلیجی ممالک سے آبنائے ہرمز کے راستے آیا تھا۔ یہ تیل امریکہ کی مجموعی ضروریات کا تقریباً 7 فیصد ہے۔ جو کہ پچھلے 40 برسوں میں اب تک کا سب سے کم سطح ہے کیونکہ اس دوران امریکہ میں لوکل آئل پروڈکشن کے علاوہ کینیڈا سے بھی تیل کی درآمد شروع ہوگئی ہے۔

محمد الباشا نے کہا اہم سوال یہ ہے کہ حوثیوں نے اس مرحلے پر امریکی کمپنیوں کو جوابا پابندیوں کا نشانہ بنانے کا کیوں سوچا ہے۔ حالانکہ 6 مئی 2025 سے اومان کی مدد سے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں