اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کے روز مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریق غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبہ کی حمایت کریں۔ ان کا یہ بیان منگل کے روز ان کے ایک ترجمان کے ذریعے سامنے آیا ہے۔
ترجمان فرحان حق نے کہا کہ یہ اس وقت انتہائی اہم ہے کہ تمام فریق ایک معاہدے پر متفق ہوں اور اس پر عمل کریں۔ اس موقع پر ترجمان نے سیکرٹری جنرل کے اس مطالبے کا بھی اعادہ کیا کہ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے۔
یاد رہے صدر ٹرمپ نے پیر کے روز جو منصوبہ امن پیش کیا ہے اس میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ 72 گھنٹوں میں اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے۔ جبکہ حماس کا ہتھیار چھوڑنے اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلاء بتدریج ممکن بنایا جائے۔
جس کے بعد ایک عبوری اتھارٹی کا قیام غزہ کے لیے عمل میں لایا جائے جس کی سربراہی صدر ٹرمپ خود کریں گے۔
عالمی طاقتوں بشمول عرب و مسلم اقوام نے امریکہ کے اس امن منصوبے کو فوری طور پر قبول کر لیا ہے مگر حماس نے ابھی اس کے بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
منگل کے روز ایک فلسطینی ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حماس نے اس منصوبے کے اعلان کے بعد باہمی مشورہ شروع کر دیا ہے اور حماس کی غزہ اور غزہ سے باہر قیادت آپس میں اس پر آرا کا تبادلہ کر رہی ہے۔ تاہم مسئلہ کے حساس اور ہیچیدہ ہونے کی وجہ سے اس مشاورت میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
یاد رہے صدر ٹرمپ نے اپنے اس منصوبے کا اعلان اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم سے پیر کے روز ملاقات کے بعد کیا