غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کے سامنے 3 بڑی رکاوٹیں کیا ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر کو پیش کیے گئے غزہ امن منصوبے پر حماس کو 3 سے 4 دن کے اندر جواب دینے کی مہلت ملنے کے بعد، منصوبے کے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل چھا گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس منصوبے میں ایسی شرائط شامل ہیں جنہیں حماس کے لیے قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے دائیں بازو کے دو انتہا پسند وزرا بیتسلئیل سموٹرچ اور ایتمار بن گوئیر نے بھی اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ منصوبے میں اسرائیلی انخلا کا کوئی واضح ٹائم فریم شامل نہیں، جب کہ اس میں غزہ کو غیر عسکری علاقہ بنانے کی شرط رکھی گئی ہے، جسے حماس پہلے بھی مسترد کرتی رہی ہے۔ یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے ماہر ہیو لوفات نے کہا کہ اگر منصوبہ مذاکرات کی بنیاد ہو تو حماس مثبت جواب دے سکتی ہے، لیکن اگر اسے مِن و عَن قبول یا مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو یہ مشکل ہو گا۔ ان کے مطابق حماس کئی نکات پر اصولاً آمادہ ہے، مگر منصوبے میں کئی ابہامات ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔

غزہ کے تجزیہ کار ایاد القرا کے مطابق حماس کے لیے اسلحہ چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں، کیونکہ غزہ میں بھاری اسلحہ نہیں بلکہ مقامی طور پر تیار کردہ ہلکا پھلکا اسلحہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حماس منصوبہ مسترد کرے تو دنیا اسے امن میں رکاوٹ سمجھے گی اور اگر قبول کرے تو مزاحمت کے خاتمے کو قانونی جواز دے گی۔ حماس رہنما حسام بدران نے واضح کیا ہے کہ تحریک ہر حل کی تجویز کا خیر مقدم کرتی ہے، لیکن بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور مزاحمت کا حق بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔

دوسری بڑی رکاوٹ نیتن یاہو کا متضاد موقف ہے۔ اگرچہ وہ منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں، لیکن انھوں نے ایک وڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ کے بیشتر حصوں میں موجود رہے گی، خواہ یرغمالیوں کو رہا بھی کر دیا جائے۔ یہ بات منصوبے کی اُس شق سے متصادم ہے جس میں اسرائیل کے بتدریج انخلا کا ذکر ہے۔ عبرانی یونیورسٹی کی پروفیسر جایل نتلشیر کے مطابق نیتن یاہو دو زبانیں بول رہے ہیں : ایک عالمی برادری کے لیے، دوسری اپنی دائیں بازو کی بنیاد کے لیے۔ ان کا خیال ہے کہ نیتن یاہو حماس سے "نہیں" یا مشروط "ہاں" کا جواب چاہتے ہیں تاکہ اسرائیل معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا جواز پیش کر سکے۔

سابق برطانوی وزی اعظم ٹونی بلیئر
سابق برطانوی وزی اعظم ٹونی بلیئر

تیسری بڑی رکاوٹ نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کا موقف ہے جو جنگ کے خاتمے کو حماس کی مکمل شکست سے مشروط کرتی ہے۔ دو وزرا سموٹرچ اور بن گوئیر نے منصوبے کو "سفارتی ناکامی" قرار دیا۔ نتلشیر کے مطابق اگر حماس ہاں کہہ دے تو نیتن یاہو کی حکومت گر سکتی ہے۔ دائیں بازو کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ دراصل دو ریاستی حل کی طرح ہے، جسے وہ یکسر مسترد کرتے ہیں۔ نیتن یاہو نے بھی ٹیلیگرام پر بیان میں فلسطینی ریاست کی مخالفت دہرائی۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ
اسرائیلی وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ

ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے میں ایک عارضی بین الاقوامی فورس کی تعیناتی، "کونسل برائے امن" کا قیام (جس کی صدارت ٹرمپ کریں گے اور ٹونی بلیئر اس کے رکن ہوں گے) اور بعد کے مراحل میں فلسطینی اتھارٹی کو جزوی کردار دینے کی بات شامل ہے۔ لیکن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں کردار دینے کے مخالف ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کی ہے، اگرچہ منصوبہ اس امکان کو مکمل طور پر بند نہیں کرتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں