سعودی عرب کی وزارت خارجہ، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ اور قطر و مصر سمیت سب ملکوں نے پیر کے روز صدر ٹرمپ کی ان کوششوں کو سراہا ہے جو وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے کر رہے ہیں۔
ان ملکوں کی طرف سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں صدر ٹرمپ امن منصوبہ کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' نے وزارت خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ہم غزہ میں جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی قیادت اور ان کی مخلصانہ کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہم ان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ امن کا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
مذکورہ عرب و مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں صدر ٹرمپ کی اس تجویز کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے جو غزہ میں امن، جنگ کے خاتمے، غزہ کی تعمیر نو، جبری انخلاء روکنے اور ایک جامع امن کے لیے پیش کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کے اس منصوبے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ جبری الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔
ٹرمپ منصوبے میں غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں 72 گھنٹوں کے اندر اندر رہا کر دے۔ جبکہ حماس ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے اور اسرائیلی فوج بتدریج غزہ سے نکل جائے۔
صدر ٹرمپ کے اس پیش کردہ منصوبہ میں دیگر اہم نکات یہ ہیں کہ عارضی طور پر غزہ میں بین الاقوامی افواج کو استحکام لانے کے لیے تعینات کیا جائے گا اور اس عبوری انتظامیہ کی سربراہی صدر ٹرمپ خود کریں گے۔
مشترکہ بیان میں خطے میں امن کے لیے امریکہ کے ساتھ شراکت داری پر بھی توجہ کو مرکوز کیا گیا ہے۔ اس مشترکہ وزارتی بیان میں اس امر پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ملک امریکہ کے ساتھ مثبت و تعمیری شراکت داری کے ذریعے معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔ تاکہ خطے میں امن ہو، سلامتی و استحکام آئے۔
یہ بھی مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام ملک امریکہ کے ساتھ ایک جامع جنگی خاتمے کے لیے معاہدہ کی تیاری اور اس معاہدے کے نتیجے میں بلارکاوٹ انسانی بنیادوں پر سامان کی تقسیم و فراہمی کے لیے بھرپور تعاون کریں گے۔ جبری انخلاء کو غزہ سے روکنے اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی یہ تعاون اسی طرح میسر رہے گا۔ تاکہ تمام اطراف سے سلامتی کے لیے ضمانتوں کا ایک میکانزم فعال ہو سکے اور اسرائیلی فوج کا انخلاء ہو سکے۔ جس کے نتیجے میں غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو اور امن کی راہ ہموار ہو۔ تاکہ منصفانہ بنیادوں پر دو ریاستی حل ممکن ہو اور غزہ مغربی کنارے سمیت ایک فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ قرار پائے۔ نیز بین الاقوامی قانون کے مطابق علاقائی استحکام و سلامتی کا حصول ممکن بنایا جائے۔