حکومت اسرائیل کو اسلحے کی برآمد کی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے: ہالینڈ سپریم کورٹ کا حکم

ملک کی اعلی ترین عدالت نے حکومت کو یہ جائزہ مکمل کرنے کے لیے چھ ہفتے کا وقت دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ہالینڈ کی سپریم کورٹ نے حکومت کو اسرائیل کو اسلحے کی برآمد سے متعلق اپنی پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے گذشتہ سال کی نچلی عدالت کا وہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جس میں ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پرزوں کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن اس نے کہا کہ حکومت کو خود صورت حال کا جائزہ لے کر یہ تعین کرنا ہوگا کہ آیا ان پرزوں کے استعمال سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا امکان ہے یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ جائزہ مکمل کرنے کے لیے چھ ہفتے کا وقت دیا ہے اور اس مدت کے دوران ایف-35 کے پرزوں کی برآمد پر پابندی برقرار رہے گی۔

یہ مقدمہ دراصل 2023 کے اواخر میں انسانی حقوق کی تین ڈچ تنظیموں نے دائر کیا تھا، جنھوں نے موقف اختیار کیا کہ ایف-35 کے پرزے اسرائیل کو بھیجنا ہالینڈ کو تل ابیب کی حماس کے ساتھ جنگ میں جنگی جرائم میں شریک بنا دیتا ہے۔ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اپنی غزہ پر جارحیت کو جنگی جرائم قرار دینے سے انکار کرتا ہے۔

ہیگ کی ابتدائی عدالت نے ابتدا میں برآمد پر پابندی مسترد کر دی تھی لیکن فروری 2024 میں اپیل کمیٹی نے حکومت کو ایف-35 کے پرزوں کی ترسیل روکنے کا حکم دیا، کیونکہ اس میں بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی کا امکان موجود تھا۔ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی اور موقف اختیار کیا کہ خارجہ پالیسی عدالتوں کا نہیں بلکہ حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ کے ایک عدالتی مشیر نے غیر پابند مشورہ دیتے ہوئے حکومت کی اپیل کو مسترد کرنے کی سفارش کی تھی۔
ہالینڈ ان تین علاقائی گوداموں میں سے ایک کی میزبانی کرتا ہے جہاں امریکہ ایف-35 کے پرزے محفوظ رکھتا ہے۔ ڈچ حکومت کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر ہالینڈ سے ترسیل پر پابندی عائد بھی کی جائے تو اس کا کوئی حقیقی اثر نہیں ہوگا کیونکہ امریکہ ویسے بھی یہ پرزے بھیج دے گا۔

اگست میں ہالینڈ اور سویڈن نے یورپی یونین پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کو معطل کرے۔ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ خط میں یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ ان اسرائیلی وزرا پر پابندیاں عائد کی جائیں جو مغربی کنارے میں غیر قانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر اسرائیل "E1" نامی بستی کے منصوبے کو نافذ کرتی ہے تو یہ "بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی" ہو گی اور دو ریاستی حل کا امکان ختم ہو جائے گا۔ دونوں ملکوں نے مزید کہا کہ غزہ کی صورت حال "انتہائی خوف ناک اور ناقابلِ برداشت ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا"۔

اسی دوران سویڈن اور ہالینڈ نے حماس کی قیادت پر مزید پابندیاں سخت کرنے، تنظیم کو غزہ میں اقتدار چھوڑنے اور اپنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام ارکان ما سوا امریکہ کے، اس بات پر متفق ہو گئے کہ غزہ میں بھوک کا بحران "انسانی ہاتھوں سے پیدا کردہ" ہے۔ ان ممالک نے خبردار کیا کہ جنگ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں