ہانیبال قذافی کو لبنان میں سنگین طبی حالت کا سامنا ہے: میڈیا

انھیں ڈپریشن اور پیٹ میں شدید درد کی وجہ سے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

لیبیا کی وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں ہانیبال قذافی کی صحت اور زندگی کی ذمہ داری لبنانی حکام پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ طرابلس نے تعاون کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس ضمن تازہ کوشش وہ سرکاری یادداشت ہے جو اپریل میں سفارتی ذرائع سے بیروت کی عدالتی اور قانونی اداروں کو بھیجی گئی تھی، جس میں معاملے کے حل کے لیے ایک منصفانہ پیشکش شامل تھی، تاہم وزارت کے مطابق اب تک لبنان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

معمر القذافی کے بیٹے ہانیبال قذافی کی صحت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جیسا کہ ان کے وکیل نے بدھ کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا، اور لبنانی حکام سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

لبنان نے دسمبر 2015 میں 49 سالہ ہانیبال قذافی کو اس الزام میں گرفتار کیا تھا کہ انہوں نے شیعہ مذہبی رہنما امام موسیٰ صدر اور ان کے دو ساتھیوں کی گمشدگی کے بارے میں معلومات چھپائی تھیں، جو 31 اگست 1978 کو لیبیا کے دورے کے دوران لاپتا ہوئے تھے۔

ان کے فرانسیسی وکیل لوران بایون کے مطابق ہانیبال قذافی شدید ڈپریشن میں مبتلا ہیں اور انہیں پیٹ میں شدید درد کے باعث ہنگامی طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد انہیں منگل کے روز دوبارہ جیل واپس لے جایا گیا۔

وکیل کے مطابق ہانیبال قذافی کو مسلسل طبی نگرانی میں رکھا جائے گا، تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ان کے وکلاء نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش ظاہر کی ہو۔

انسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے اگست میں جاری اپنی رپورٹ میں لبنانی حکام سےہانیبال قذافی کو فوراً رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھاکیونکہ وہ ایسے الزامات کی بنیاد پر قید ہیں جن کا امام موسیٰ صدر کی گمشدگی سے کوئی ٹھوس تعلق نہیں۔

موسیٰ صدر 1928 میں پیدا ہونے والے ایک معروف لبنانی شیعہ مذہبی رہنما اور سیاستدان تھے۔ وہ 1970 کی دہائی میں لبنانی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے اور لیبیا کے دورے کے دوران لاپتا ہو گئے۔

لبنانی شیعہ قیادت امام موسیٰ صدر اور ان کے ساتھیوں کی گمشدگی کا ذمہ دار معمر القذافی کو ٹھہراتی ہے، تاہم سابق لیبیائی حکومت اس الزام کو ہمیشہ مسترد کرتی رہی ہے اور دعویٰ کرتی تھی کہ تینوں افراد طرابلس سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن اٹلی نے اس بات کی تردید کی کہ وہ اس کی سرزمین میں داخل ہوئے۔

معمر القذافی 2011 میں عوامی بغاوت کے دوران ہلاک ہو گئے تھے، جس نے ان کے طویل اقتدار کا خاتمہ کیا۔ ان کا بیٹا ہانیبال اس وقت شام میں سیاسی پناہ لیے ہوئے تھا، لیکن اسے لبنان میں سابق رکنِ پارلیمان حسن یعقوب کے گروپ نے لالچ دے کر وہاں پہنچایا ،حسن یعقوب کے والد شیخ محمد یعقوب بھی موسیٰ صدر کے ساتھ لاپتہ ہوئے تھے۔

لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری جو موسیٰ صدر کے بعد شیعہ تحریک "امل" کے قائد بنے، نے لیبیا کی نئی حکومت پر اس معاملے میں عدم تعاون کا الزام لگایا۔

ہانیبال کے وکیل نے کہا: ہانیبال قذافی کو سیاسی قیدی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ لیبیا اور لبنان کے درمیان تعاون کا فقدان ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ان کی مسلسل قید کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ اپنے والد کا نام رکھتے ہیں۔ وکیل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کی رہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

وکیل بایون کے مطابق، لبنانی پراسیکیوٹر جنرل برائے اپیل جمال الحجار سے انہوں نے گزشتہ منگل ملاقات کی تھی، نے بتایا کہ انہوں نے اپنا موقف عدالتی تفتیشی جج کو پیش کر دیا ہے، اور اب فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔

ایک لبنانی عدالتی ذریعے کے مطابق، پراسیکیوٹر جنرل الحجار ہانیبال قذافی کی رہائی پر اعتراض نہیں رکھتے۔

لیبیا کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز اپنے بیان میں ایک بار پھر ہانیبال قذافیکی صحت اور زندگی کی مکمل ذمہ داری لبنانی حکام پر عائد کی، اور کہا کہ لیبیا نے تعاون کیا ہے، جس کی تازہ مثال اپریل میں سفارتی ذرائع کے ذریعے لبنان کی عدالتی اور قانونی اتھارٹیز کو بھیجی گئی سرکاری یادداشت ہے، جس میں معاملے کے منصفانہ حل کی پیشکش شامل تھی، لیکن لبنان نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں