ایران نے میزائل پروگرام پر امریکی تنقید کو ’لغو‘ قرار دے کر مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران نے بدھ کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی تنقید مسترد کر دی جس میں انہوں نے اس ہفتے اسلامی جمہوریہ کے میزائل پروگرام کو "ناقابلِ قبول خطرہ" قرار دیا تھا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ "وہ لغو باتیں کر رہے تھے" اور مزید کہا، امریکہ کو "ایسی قوم کی دفاعی صلاحیتوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے جس نے کسی بھی قیمت پر اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کر رکھا ہو۔"

انہوں نے اسرائیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، میزائل پروگرام ایران کے "غیر ملکیوں بشمول امریکہ اور صیہونی حکومت کے لالچ، جارحیت اور حملوں کے خلاف کھڑے ہونے" کا ذریعہ تھا۔

پیر کو اسرائیل کے دورے کے دوران روبیو نے تہران کے خلاف ان پابندیوں کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" والی پالیسی برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر میں پہلی مدت کے دوران عائد کی گئی تھیں۔

اس پالیسی کے نتیجے میں واشنگٹن یکطرفہ طور پر ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔

روبیو نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا، "ایک بنیاد پرست [شیعہ] عالم کے زیرِ حکومت جوہری صلاحیت کا حامل ایران جس کے پاس نہ صرف ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بلکہ میزائل ہیں جو ان ہتھیاروں کو بہت دور تک لے جا سکتے ہیں، وہ نہ صرف اسرائیل، نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے لیے ایک ناقابلِ قبول خطرہ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، امریکہ اس وقت تک ایران پر دباؤ ڈالے گا جب تک کہ "وہ اپنی روش تبدیل نہ کر لے"۔

ستمبر میں ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے کہا تھا، تہران واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن انہوں نے اپنے میزائل پروگرام پر کسی قسم کی پابندی کو مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں