امریکہ-بھارت تعلقات کے ماہر خفیہ دستاویزات رکھنے پر گرفتار

امریکی انتظامیہ کے مشیر کے گھر سے دفاعی معلومات پر مشتمل مواد برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ-بھارت تعلقات کے ایک سرکردہ ماہر کو گرفتار کر کے ان پر خلافِ قانون قومی دفاعی معلومات گھر پر رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے جن میں ایک ہزار صفحات سے زیادہ انتہائی خفیہ اور خفیہ دستاویزات شامل ہیں، یہ بات عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوئی۔

چونسٹھ سالہ ایشلے ٹیلس نے سابق ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کی قومی سلامتی کونسل میں خدمات انجام دیں اور ایف بی آئی کے عدالتی حلف نامے میں ان کا نام محکمہ خارجہ کے بلا معاوضہ مشیر اور پینٹاگون کے کنٹریکٹر کے طور پر درج ہے۔ منگل کی عدالتی دستاویزات کے مطابق وہ ہفتے کے آخر میں گرفتار ہوئے اور پیر کو ان پر الزام عائد کیا گیا۔

ٹیلس واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں بھی سینئر فیلو ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے ٹیلس کی ہفتے کے روز گرفتاری کی تصدیق کی لیکن مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ پینٹاگون کے ایک اہلکار نے کہا کہ محکمہ جاری قانونی چارہ جوئی پر تبصرہ نہیں کرتا۔

کارنیگی نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا اور ٹیلس سے فوری رابطہ نہیں ہو سکا۔ عدالتی دستاویزات میں نام درج نہ ہونے کے باعث ان کے وکیل کا بھی فوری طور پر علم نہیں ہو سکا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے افسران بشمول ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے خفیہ معلومات کا غلط استعمال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عہد کیا ہے۔

عدالتی کاغذات کے ہمراہ ایف بی آئی کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اس سال ستمبر اور اکتوبر میں ٹیلس محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کی عمارات میں داخل ہوئے اور ان کا خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے اور پرنٹ کرتے ہوئے مشاہدہ کیا گیا جن میں فوجی طیاروں کی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات شامل تھیں۔ پھر وہ چمڑے کے بریف کیس یا بیگ کے ساتھ گاڑی میں وہاں سے چلے گئے۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز ورجینیا کے شہر ویانا میں ٹیلس کی رہائش گاہ کی تلاشی کے دوران انتہائی خفیہ اور خفیہ نشانات والے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات کا انکشاف ہوا ہے۔

نیز کہا گیا ہے کہ ٹیلس نے گذشتہ کئی سالوں میں متعدد مواقع پر چینی حکومت کے اہلکاروں سے ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں میں 15 ستمبر کو فیئر فیکس، ورجینیا کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک عشائیہ بھی شامل تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ ٹیلس ایک موٹا خاکی لفافہ لے کر آئے تھے جو واپسی میں ان کے پاس نہیں تھا۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ اور پینٹاگون میں ملازم ہونے کی بنا پر ٹیلس کے پاس انتہائی خفیہ سکیورٹی کلیئرنس تھی اور وہ حساس انٹیلی جنس معلومات تک رسائی رکھتے تھے جو صرف مخصوص افراد کی دسترس میں ہوتی ہیں۔

محکمہ انصاف کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر جرم ثابت ہو گیا تو ٹیلس کو 10 سال قید اور 250,000 ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا۔

مشرقی ضلع ورجینیا کے امریکی اٹارنی لنڈسے ہیلیگن نے کہا، "ہم امریکی عوام کو تمام غیر ملکی اور ملکی خطرات سے بچانے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس کیس میں لگائے گئے الزامات ہمارے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کے لیے سنگین خطرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں