یمن کے نزدیک سے گزرنے والے کیمرون کے بحری ٹینکر کو ہفتہ کے روز اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے عرشے پر دھماکہ ہوا۔ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی 'ایمبری' نے کہا ہے یہ جہاز 60 سمندری میل دور یمن کے علاقے احوار کے جنوب سے گزر رہا تھا۔
تاہم جہاز کے ساتھ پیش آنے والے دھماکے کی وجوہات کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔
'ایمبری' کے مطابق اسے ریڈیائی لہروں کی بنیاد پر ہونے والے رابطوں سے یہ اشارے ملے ہیں کہ جہاز کو اس کے عملے نے ہی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ آخری اطلاعات کے مطابق ریسکیو کے لیے آپریشن جاری تھا۔
بتایا گیا ہے یہ جہاز اومان کی طرف سے جبوتی کی بندرگاہ کی جانب روانہ تھا۔ تاہم ابھی یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اسے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہو جو اس سے قبل بحیرہ احمر میں 2023 سے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کو مسلسل نشانہ بناتے رہے۔
یمنی حوثیوں کے ان میزائل اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں بحیرہ احمر کا تجارتی راستہ اور نہر سویز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کا سفر بری طرح متاثر ہوا جس سے عالمی معیشت کو بھی نقصان ہوا کہ یہ راستہ عالمی تجارت کے حوالے سے مصروف ترین بحری راستہ ہے۔