امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ فی الحال حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن مقرر نہیں کی جا سکتی، تاہم وہ غزہ میں جنگ بندی کے استحکام کے بارے میں پُر امید ہیں۔
وینس نے اسرائیل کے جنوبی شہر کریات گات میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد توقع سے بہتر طور پر آگے بڑھ رہا ہے اور اس سلسلے میں اسرائیلی حکومت نے نمایاں تعاون کیا ہے۔ انھوں نے اس مرکز کا بھی دورہ کیا جہاں امریکی اہل کار جنگ بندی کی نگرانی کے لیے تعینات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ "ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں، صورت حال بہت اچھی ہے، لیکن اس کے لیے مستقل نگرانی اور کوشش ضروری ہے"۔ ان کے مطابق اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے، اس پر سب کو فخر ہونا چاہیے۔
فی الحال مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی کو کامیاب بنایا جا سکے اور کسی ممکنہ خلاف ورزی سے اس کے خاتمے کو روکا جا سکے۔
جے ڈی وینس کی آمد سے قبل وائٹ ہاؤس کے دو اعلیٰ نمائندے ... مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر بھی اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔ دونوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی اور انھیں خبردار کیا کہ جنگ بندی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق امریکی ایلچیوں نے نیتن یاہو کو واضح پیغام دیا کہ اسرائیل اپنی دفاعی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اسے جنگ بندی کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا ہوگا۔
نائب ترمب يصل اليوم إلى إسرائيل لمناقشة المرحلة الثانية من وقف النار في غزة#قناة_العربية#أخبار_الصباح pic.twitter.com/p1WPXXqAdq
— العربية (@AlArabiya) October 21, 2025
امریکی ذرائع کے مطابق، وینس، وٹکوف اور کُشنر کو ایک مشترکہ مشن سونپا گیا ہے ... اور وہ ہے نیتن یاہو کو حماس کے خلاف دوبارہ سے وسیع حملہ شروع کرنے سے روکنا۔
اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی ڈگمگا سکتی ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حماس کی قیادت سنجیدگی سے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، اور حالیہ حملہ "تنظیم کے ایک انحرافی گروپ" نے کیا۔
اسی دوران ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، تو امریکہ اس تنظیم کو مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل سے لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے نہیں کہا۔
دوسری جانب حماس کے رہنما خلیل الحیہ جو قاہرہ میں مذاکراتی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں، نے کہا کہ تنظیم جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کے لیے پُر عزم ہے اور تمام لاشوں کی حوالگی معاہدے کے مطابق کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کی ثالثی میں قائم بین الاقوامی حمایت ہی امن کی ضمانت ہے۔
البتہ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے امریکی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے کسی بھی ونگ کو رفح واقعے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔
دوسری جانب فلسطینی سکیورٹی ترجمان انور رجب نے کہا کہ حماس کے اندر ایسے گروہ موجود ہیں جو جنگ بندی کے فیصلے کی پابندی نہیں کر رہے ہیں۔
اس دوران اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ کے تقریباً 200 فوجی اسرائیل پہنچ چکے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور انسانی امداد کی ترسیل کے لیے ایک سول-ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کیا جا سکے۔
یہ مرکز امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیرِ انتظام ہوگا اور مختلف ذرائع بشمول ڈرونز اور بین الاقوامی تنظیموں ... سے غزہ کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں معلومات جمع کرے گا۔