امریکہ نے اپنی توجہ پوری طرح مستقبل کے غزہ پر مرکوز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ ان دنوں غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس کی تشکیل کے لیے عالمی تائید و حمایت کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اس موضوع پر قطری قیادت سے بھی تبادلہ خیال جاری ہے۔
نیز صدر ٹرمپ کے قطر میں مختصر قیام کے دوران اتوار کے روز زیر بحث آنے والے موضوعات میں بھی موضوع یہ شامل ہے۔
امریکی فوج کے اب تک بتائے گئے بیان کے مطابق دو سو فوجی پہلے ہی غزہ میں اتارے جا چکے ہیں۔ جبکہ ہفتے کے روز امریکی ڈرونز کی غزہ میں پروازوں کا بھی میڈیا کی سطح پر چرچا رہا ہے۔
امریکہ نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت ہونے والے امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے بھی اپنے ایک غیر معمولی تجربے کے حامل سفیر کو ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ سفیر یمن ، عراق اور وغیرہ ایسے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس تناظر میں غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس لانے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کئی ملکوں نے اس بارے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تاہم مختلف ملکوں کی دلچسپی کی سطح مختلف ہے۔ کئی ملک وسائل اور کئی افرادی قوت کی فراہمی کو تیار ہیں۔ جبکہ بعض ملکوں نے ہر دو طرح کی خدمات و تعاون کی امریکہ کو پیش کش کی ہے۔
مارکو روبیو نے اسرائیل سے اپنے خصوصی طیارے پر اسرائیل سے قطر جاتے ہوئے رپورٹرز کو بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کی صورت میں تائید یا بین الاقوامی معاہدے کی توثیق ضروری خیال کی جارہی ہے۔ تاکہ کوئی قانونی یا عملی پیچیدگی نہ رہے۔
انہوں نے کہا ہم پوری ٹیم کی بنیاد پر اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ عرب ملک غزہ میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کے لیے پیسے دیں تاکہ کام آگے بڑھے۔
امریکہ کے وزیر خارجہ نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی اسرائیل پر بھی کوئی مالی ذمہ داری ہوگی یا نہیں۔ یاد رہے اسرائیل نے اب تک ترکیہ کے امن دستوں کے غزہ تعینات کیے جانے کی مخالفت کی ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ جن ملکوں پر اسرائیل کو اعتراض نہیں ہوگا انہیں کے فوجی دستے غزہ میں داخل ہو سکیں گے۔