اسرائیلی نشریاتی ادارے نے پیر کے روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے حماس کو "یلو زون" کے اندر نہ صرف رفح بلکہ متعدد مقامات پر لاشوں کی تلاش کے لیے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ادارے نے کہا کہ اس منظوری کے بعد حماس نے اسرائیلی زیرِ کنٹرول علاقے الشجاعیہ میں ایک زمینی دورہ بھی کیا۔ مزید یہ کہ سیاسی سطح پر خان یونس کے ایک اور مقام پر بھی حماس کو کام کرنے کی اجازت کی منظوری دے دی گئی۔
اس سے قبل "العربیہ" اور "الحدث" کے ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ مصری کمیٹی کی کوششوں کے تحت کرم ابو سالم بارڈر کراسنگ سے جنوبی غزہ میں ملبہ ہٹانے اور تباہ شدہ راستے کھولنے کے لیے 12 مشینری گاڑیاں داخل کی گئی ہیں۔
ماہر ٹیمیں شہروں کے تباہ شدہ حصوں سے ملبہ ہٹانے کے کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ لا پتا افراد کی لاشیں تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔
كاميرا العربية قرب أحد المواقع في خان يونس والذي من المفترض أن يؤدي لنفق تتواجد فيه جثة رهينة إسرائيلي#قناة_العربية #أخبار_الصباح pic.twitter.com/TPw9TJWFNl
— العربية (@AlArabiya) October 27, 2025
زمینی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرقی علاقوں پر بم باری جاری رکھی۔ "العربیہ" اور "الحدث" کے رپورٹر کے مطابق غزة شہر کے محلے الشجاعیہ کے مشرق میں زور دار دھماکے سنے گئے جب اسرائیلی فوج نے متعدد رہائشی عمارتوں کو مسمار کیا۔ اسی سلسلے میں خان یونس شہر کے مشرقی حصوں میں بھی شہری تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ خان یونس کے جنوب مشرقی قصبے عباسن الکبیرہ میں ایک ڈرون حملے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔ فلسطینی نیوز ایجنسی (وفا) نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ "ایک ڈرون نے لوگوں کے گھروں کا معائنہ کرتے ہوئے اُن پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ کی حالت سنگین بتائی گئی ہے"۔
بیان کے مطابق اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں مسلسل اور شدید فائرنگ کر رہی ہیں جو خان یونس کے مشرقی علاقوں کی طرف ہے۔ اسی دوران اسرائیلی جنگی کشتیاں رفح کے ساحلی علاقے کی طرف گولہ باری کر رہی ہیں۔
سیاسی طور پر فتح تحریک نے اُن بیانات یا موقف کی تردید کی ہے جو ان کے نام منسوب کیے گئے۔ تحریک کا کہنا ہے کہ غزہ میں انتظامی کمیٹی کی صدارت اسی وزیر کے پاس ہونی چاہیے جو فلسطینی اتھارٹی کی حکومت کا رکن ہو، کیونکہ اتھارٹی ہی فلسطینی عوام کے امور کے انتظام کے لیے واحد قانونی رجسٹرڈ فریق ہے۔
فتح کے ترجمان عبدالفتاح دولہ نے کہا کہ یہ موقف وطن کی وحدت اور سیاسی حوالے یعنی تنظیمِ آزادیِ فلسطین اور فلسطینی اتھارٹی کے تحفظ کے جذبے سے پیدا ہوا ہے ... اور کسی بھی متوازی فریم ورک کو مسترد کیا جائے جو تقسیم کو تقویت دے۔
اس سے قبل ایک اسرائیلی عہدے دار نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا تھا کہ اسرائیل "امجد الشوا" کی غزہ کی ٹیکنوکریٹس کمیٹی کی صدارت پر "ویٹو" نہیں لگائے گا اور اس کمیٹی کے اختیارات صرف شہری نوعیت کے ہوں گے۔
امجد الشوا، جو غزہ میں سول سوسائٹی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں ... کے عہدے کی توثیق امریکی فیصلے کی منتظر ہے۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔
اپنی ایک خصوصی گفتگو میں الشوا نے "العربیہ" اور "الحدث" سے کہا کہ وہ قومی، عربی اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی صورت میں حکومت کی صدارت کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ یہ کمیٹی اتھارٹی اور تنظیمِ آزادیِ فلسطین کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ساتھ ہی باور کرایا کہ غزہ فلسطینی اراضی کا جدا نہ ہونے والا حصہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوشا بیدروسیان نے کہا ہے کہ تل ابیب علاقے پر مکمل سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا۔ ان کے بیان کے مطابق "غزہ یا تو آسانی سے یا مشکل راستے سے غیر مسلح کر دیا جائے گا"۔