منگل کی شب اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر پر فضائی حملے کیے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ حملے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے اُس حکم کے بعد کیے گئے جن میں انہوں نے فوج کو “فوری اور طاقتور کارروائی” کی ہدایت دی تھی۔
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیل نے غزہ شہر میں الشفاء ہسپتال کے اطراف فضائی حملہ کیا، جبکہ توپخانے سے وسطی علاقے دیرالبلح کے مشرقی حصے کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق جنوبی شہر پر اسرائیلی فضائی حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔
Following security consultations, Prime Minister Netanyahu has directed the military to immediately carry out forceful strikes in the Gaza Strip.
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) October 28, 2025
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب نے امریکہ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ حالیہ رفح واقعے کے بعد غزہ پر نیا حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجی قیادت نے “فوجی ازسرنو تعیناتی” کے تحت غزہ کے اندر اپنے کنٹرول والے علاقے میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید یہ کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو امریکی انتظامیہ کے ساتھ اس منصوبے پر براہِ راست رابطے میں ہیں، تاہم آئندہ کارروائیوں کی تفصیلات یا وقت ظاہر نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہےکہ "حماس اپنے حملوں اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کی بھاری قیمت ادا کرے گی"۔ ان کے بقول اسرائیل "خطرناک حد پار کرنے"پر بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
ہم جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہیں:حماس
جوابی بیان میں حماس نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابندی کر رہی ہے اور اسرائیلی بمباری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حماس کا کہنا تھا کہ اسے رفح میں پیش آئے فائرنگ کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور عالمی برادری کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکے۔
مكتب نتنياهو: رئيس الوزراء أمر بتنفيذ ضربات قوية على قطاع غزة فورا #قناة_العربية pic.twitter.com/jw8hESzimI
— العربية (@AlArabiya) October 28, 2025
نیتن یاھو کا الزام اور ممکنہ کارروائی
اس سے قبل بنجمن نیتن یاھو نے حماس پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے ایک ایسی اسرائیلی مغوی کی باقیات حوالے کی ہیں جو پہلے ہی اسرائیلی فوج کے قبضے میں تھیں۔ انہوں نے سکیورٹی حکام کے ساتھ “حماس کی خلاف ورزیوں” پر حکومتی ردعمل پر غور کرنے کا اعلان کیا۔
امریکہ کی رضامندی لازمی
ادھر اسرائیلی وزراء بَزلئیل سموٹریچ اور اِیتمار بن گویر نے نیتن یاھو سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ تاہم ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق کسی بڑی کارروائی سے قبل امریکہ کی منظوری درکار ہوگی، کیونکہ موجودہ جنگ بندی بھی واشنگٹن کی ثالثی سے طے پائی تھی۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے پیر کی شب اعلان کیا تھا کہ اسے ریڈ کراس کے ذریعے ایک نئے اسرائیلی قیدی کی باقیات موصول ہوئی ہیں۔ حماس اب تک 20 اسرائیلی قیدیوں کو زندہ اور 17 کی باقیات حوالے کر چکی ہے، تاہم تل ابیب کے مطابق ان میں سے دو باقیات پہلے سے ہی شناخت شدہ تھیں۔ یوں مجموعی طور پر اب تک 15 باقیات واپس کی گئی ہیں اور 13 قیدیوں کی لاشیں باقی ہیں۔