اسرائیل غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے فرار اختیار کر رہا: حماس

حماس نے اسرائیلی لاشوں کے معاملے کو حل کرنے کے لیے آلات اور اہلکاروں کی درخواست کی ہے: حازم قاسم کا ’’ العربیہ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں حماس کے ترجمان حازم القاسم نے ’’ العربیہ ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ اگر ضروری سامان اور وسائل فراہم کیے جائیں تو تحریک گرین لائن کے نیچے والے علاقوں میں لاشوں کی تلاش کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے فرار کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ حازم القاسم نے بتایا کہ حماس نے ثالثوں اور دیگر دھڑوں کے ساتھ دوسرے مرحلے کی تکمیل پر بات چیت کی ہے۔ حماس نے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے قاہرہ میں متفقہ شخصیات پر مشتمل کمیونٹی سپورٹ کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

القسام بریگیڈز نے گرین لائن کے اندر سے تمام اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں ایک ہی بار میں واپس لانے کی پیشکش کی بشرطیکہ انہیں ضروری سامان اور عملہ فراہم کیا جائے۔ یہ پیشکش اسرائیل کے ساتھ ایک نئے بحران کے بعد سامنے آئی ہے کہ حماس کی جانب سے تین لاشوں کو حوالہ کرنے کے بعد اسرائیل نے کہا تھا کہ یہ تینوں لاشیں اس کے شہریوں کی نہیں ہیں۔ ایک بیان میں القسام بریگیڈز نے کہا کہ ان کی ٹیمیں اس معاملے کو بند کرنے کے ایک حصے کے طور پر گرین لائن کے اندر قبضے کے قیدیوں کی لاشوں کو بیک وقت اور تمام مقامات پر نکالنے کا کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے ثالثوں اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام لاشوں کو بیک وقت نکالنے کے لیے ضروری سامان اور عملہ فراہم کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جمعہ کو لاشوں کی حوالگی میں رکاوٹ پیدا کرنے سے بچنے کی کوشش میں ہم نے کئی نامعلوم باقیات سے تین نمونے حوالے کرنے کی پیشکش کی۔ تاہم اسرائیل نے نمونے لینے سے انکار کر دیا اور لاشوں کو جانچ کے لیے طلب کیا۔ ہم نے اسرائیل کے کسی بھی دعوے کو روکنے کے لیے انہیں حوالے کردیا۔ القسام بریگیڈز کا یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے ہفتے کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ گزشتہ شب ریڈ کراس کے ذریعے غزہ سے ملنے والی تین لاشیں اسرائیلیوں کی نہیں تھیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ فرانزک تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاشیں ہلاک ہونے والے 11 قیدیوں میں سے کسی کی نہیں ہیں جن کی باقیات امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کو واپس کیے جانے کی امید ہے۔ حماس نے ریڈ کراس کے ذریعے باقیات کے تین سیٹ حوالے کیے تھے لیکن ابو کبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ میں کیے گئے معائنے سے معلوم ہوا کہ باقیات کسی اسرائیلی کی نہیں تھیں۔

پچھلے ہفتے اسی طرح کے ایک واقعے نے جنگ بندی کو تقریباً پٹڑی سے اتار دیا تھا جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ حماس کے حوالے کی گئی باقیات غزہ کی پٹی میں قید اسیر کی نہیں ہیں بلکہ وہ تقریباً دو سال قبل ایک فوجی آپریشن میں غزہ سے واپس آنے والے قیدی کی باقیات ہیں۔ رفح میں عسکریت پسندوں کی جانب سے فوجی گاڑی پر حملہ کرنے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کردی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں