چینی صدر کی دلچسپ پیشکش: جنوبی کوریائی ہم منصب کو موبائل فون اور ’جاسوسی‘ کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک مختصر ویڈیو نے غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے، جس میں چین کے صدر شی جن پنگ اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب لی جے میونگ کو "شیاؤمی" موبائل فون بطور تحفہ دیتے ہوئے خوشگوار انداز میں کہتے ہیں: "دیکھ لیں، کہیں اس میں بیک ڈور (یعنی جاسوسی کا راستہ) تو نہیں"۔

یہ ویڈیو ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر تیزی سے پھیلی، چند گھنٹوں میں ہزاروں بار دیکھی گئی۔ صارفین کی آراء میں بعض نے اسے ہلکی پھلکی مزاحیہ گفتگو قرار دیا جبکہ دیگر نے ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے تناظر میں اس جملے کو سنجیدگی سے لیا۔ "بیک ڈور" وہ اصطلاح ہے جو عام طور پر الیکٹرانک نگرانی یا ڈیٹا تک خفیہ رسائی کے امکانات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

حیران کن لمحہ

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شی جن پنگ مسکراتے ہوئے اپنے مہمان سے کہتے ہیں "یہ آپ کے لیے ہے اور ایک آپ کی اہلیہ کے لیے"۔
اس پر لی جے میونگ محتاط لہجے میں پوچھتے ہیں "کیا اس فون کے ذریعے رابطہ محفوظ رہے گا؟"۔
چینی صدر فوراً ہنستے ہوئے جواب دیتے ہیں "خود چیک کر لیں، کہیں اس میں بیک ڈور نہ ہو!"

اس مکالمے پر موجود شرکاء کے چہرے حیرت سے بدل گئے اور دونوں ممالک کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

مزاح کے پیچھے پیغام

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مغربی ممالک چینی الیکٹرانک مصنوعات کے سکیورٹی پہلوؤں پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین نے ماضی میں "ہواوے" اور "شیاؤمی" جیسی کمپنیوں پر ممکنہ سکیورٹی کمزوریوں اور جاسوسی کے خدشات کے الزامات عائد کیے تھے، جنہیں بیجنگ مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

ماہرین کے مطابق شی جن پنگ کا تبصرہ محض مذاق نہیں تھا بلکہ اس میں بیک وقت اعتماد اور چیلنج دونوں کا پیغام چھپا تھا۔ ایک طرف وہ اپنے مہمان کو چینی ٹیکنالوجی بطور تحفہ پیش کرتے ہیں، تو دوسری جانب یہ باور کراتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اب محض کاروبار نہیں بلکہ عالمی سیاست کا اہم ہتھیار بن چکی ہے۔

دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والی "شیاؤمی" جنوبی کوریا کی "سام سنگ" اور امریکی "ایپل" کی مضبوط حریف سمجھی جاتی ہے، تاہم مغربی مارکیٹوں میں اسے سیاسی اور سکیورٹی دباؤ کا سامنا ہے۔

اگرچہ یہ واقعہ بظاہر ایک دلچسپ لمحہ لگتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں، جب ایشیائی خطے میں ٹیکنالوجی کے اثر و رسوخ پر کشیدگی بڑھ رہی ہے، شی جن پنگ کا یہ طنزیہ جملہ دراصل ایک سفارتی پیغام تھا کہ آج کے دور میں یہاں تک کہ تحائف بھی سیاست سے خالی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں