بحیرۂ کیسپین میں جہاز پر یوکرین کا حملہ، ایران نے 'غیر متوقع' نتائج سے خبردار کر دیا

ہم نے روس-یوکرین تنازعے میں کبھی مداخلت نہیں کی: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو یوکرین کو "غیر متوقع" نتائج سے خبردار کیا ہے جس نے ہفتے کے آخر میں بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری جہاز پر حملہ کیا تھا۔

وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا، "یوکرین کا یہ اقدام قطعی غیر قانونی اور بلاجواز، اقوامِ متحدہ کے منشور کے خلاف اور ساتھ ہی مہم جوئی کا ایک خطرناک عمل تھا جس کا یقیناً ہم جواب دیے بغیر نہیں رہیں گے۔"

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز ایران کے جواب سے خبردار کیا تھا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ کئیف نے بحیرۂ کیسپین میں ایران سے متعلق فوجی سامان کی نقل و حمل کرنے والے جہازوں کے خلاف طویل فاصلے تک حملے کیے تھے۔ یہ پیش رفت اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جو یوکرین میں روس کی جنگ کی بہت زیادہ بین الاقوامی جہتوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

"زیلینسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کیا ہے جس میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا،" عراقچی نے ایکس پر کہا اور اسے "یورپ کو اپنی جنگ میں گھسیٹنے کے لیے اسرائیل کے ایما پر کی گئی اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔

یورپی یونین کی کایا کالاس اور روس کے اعلیٰ سفارت کار سرگئی لاوروف سے بات چیت کے دوران "واضح کیا گیا کہ کئیف کے مفت خور نے جو کیا، اس کا جواب دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا،" انہوں نے مزید کہا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں جہاز دھماکے سے "پھٹ گیا جس سے ایک ملاح ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔"

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے "روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ میں کبھی مداخلت نہیں کی۔"

ہفتے کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مسلح افواج نے "بحیرۂ کیسپین میں طویل فاصلے تک مار کر کے بہت زوردار نتائج حاصل کیے ہیں - ان میں ایران سے متعلق فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال ہونے والے جہازوں کے ساتھ ایک جنگی جہاز بھی شامل تھا۔"

یوکرین کی انٹیلی جنس سروسز نے ٹیلی گرام پر اطلاع دی کہ ڈرون حملے "بین الاقوامی پابندیوں کے تحت آنے والے مال بردار جہازوں کے خلاف کیے گئے جو ایران اور روس کے درمیان فوجی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتے تھے۔"

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز تہران میں یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر کے اس "مخالفانہ اور مجرمانہ اقدام" پر احتجاج کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں