برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی مستعفی

ٹرمپ پر بنائی دستاویز فلم کی ایڈیٹنگ سبب بنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانیہ کے سب سے معروف نشریاتی ادارے کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کے صدر ٹرمپ کے بارے میں بنائی گئی دستاویزی فلم کا خمیازہ بھگتنا پڑ گیا۔ دستاویزی فلم کی ایڈیٹنگ پر تنقید اور ادارے کے جانبدارانہ ہونے کے پے در پے الزامات کے بعد 'بی بی سی' کے ڈائریکٹر جنرل استعفا دینے پر مجبور ہو گئے۔

'بی بی سی' پر یہی الزام صدر ٹرمپ کی ایک تقریر کو ایڈیٹ اور پیش کیے جانے کے حوالے سے لگایا گیا ہے۔ ان کے ساتھ ہی 'بی بی سی' کے شعبہ خبر کے سربراہ نے بھی استعفا دیدیا ہے۔

برطانوی اخبار روزنامہ 'ٹیلی گراف' نے اس سلسلے میں رپورٹ کیا ہے۔ 'ٹیلی گراف' کی یہ رپورٹ 'بی بی سی' کی ایک اندرونی انتظامی دستاویز کی بنیاد پر ہے۔ یہ دستاویز 'بی بی سی' کے سابق ایڈوائزر کی مدد سے تیار کی گئی۔ یہ ایڈوائزر پیشہ وارانہ و خبری معیار کی جانچ کے ذمہ دار رہے ہیں۔

اس ایڈوائزر نے اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں ان غلطیوں کو ترتیب دیا ہے جو دستاویزی فلم میں کی گئی ہیں اور صدر ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 کو تقریر کو پیش کرتے ہوئی کئی گئی تھیں۔

روزنامہ 'ٹیلی گراف' نے اس واقعے پر ایڈوئزر کی رپورٹ کو کئی روز تک اپنی اشاعتوں کا موضوع بنایا۔
اس میں بتایا گیا کہ 'بی بی سی' کے پروگرام ' پینو راما ' نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے دو حصوں کو اکٹھا ایڈیٹ کیا تھا۔ جس سے کیپٹل ہل پر حملے کی حوصلہ افزائی کا احساس ہوا اور اسی ماہ جنوری میں کیپٹل ہل کا انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ بلکہ فساد اور دنگے کا ماحول بن گیا۔

ٹم ڈیوی نے مستعفی ہونے کے سلسلے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ خالصتا ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ میں 'بی بی سی' کے بورڈ کے سربراہ کا ممنون ہوں ۔ جس نے مجھے میری ساری مدت ملازمت کے دوران غیر متزلزل اور متفقہ حمایت دی ہے۔ حتیٰ کہ حالیہ دنوں تک اس حمایت کو جاری رکھا۔

اس مشکل وقت میں کئی برسوں تک چلنے والے اپنے کردار کو سنبھالنے کے دوران انتہائی ذاتی اور پیشہ ورانہ تقاضوں پر غور کرتا رہا ہوں۔ اب میں یہ حقیقت سمجھ رہا ہوں کہ اپنے آپ کو وقت دینا چاہیے۔ تاکہ میرا جانشین کی ان منصوبوں کی تشکیل میں مدد ہو سکے جو وہ پیش کریں گے۔

یاد رہے جس دستاویزی فلم کی ایڈیٹنگ پر مسئلہ بنا ہے اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ' ہم کیپیٹل جائیں گے اور سہ جہنم کی طرح لڑیں گے۔'

مگر کہا جاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ ریمارکس اپنی تقریر کے ایک مختلف حصے میں تھے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے جمعہ کے روز اس صورتحال میں 'بی بی سی' پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے 'بی بی سی' سو فیصد جعلی خبر باز اور مکمل پراپیگنڈہ مشین ہے۔

ادھر 'بی بی سی' کی انتظامیہ کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹم ڈیوی استعفا کے باوجود اس وقت تک اپنا کام جاری رکھیں گے جب تک ان کا کوئی متبادل تلاش نہیں کر لیا جاتا۔

اس معاملے سے جڑے ایک شخص کا کہنا ہے کہ 'بی بی سی' کے ڈی جی کا اس طرح مستعفی ہوجانا 'بی بی سی' کے بورڈ کو سخت حیرانی میں مبتلا کر گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں