امریکہ کے شام کے لیے نمائندہ خصوصی ٹام بَرَاک نے چند گھنٹے قبل ریپبلکن رکنِ کانگریس براين ماسٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا کہ ماسٹ کی حمایت امریکی کانگریس میں سیزر قانون کو مکمل طور پر منسوخ کرانے کے اگلے مرحلے کے لیے نہایت اہم ہے۔
.@RepBrianMast is a TRUE AMERICAN HERO whose service to this nation is unquestionable. Thankful to Chairman Mast for his alignment with @POTUS’s vision to give Syrians a chance. His sponsorship is key to the next step of having Congress fully repeal the Caesar Act. pic.twitter.com/czhFkxrkdb
— Ambassador Tom Barrack (@USAMBTurkiye) November 10, 2025
براين ماسٹ کون ہیں؟
یہ ریپبلکن رکنِ کانگریس سیزر قانون کے خاتمے کی راہ میں آخری رکاوٹ تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ وہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور انہیں دفاعی بجٹ میں کسی بھی ترمیم کو منظور یا مؤخر کرنے کا فیصلہ کن اختیار حاصل ہے۔
اگرچہ صدر ڈونالد ٹرمپ کی انتظامیہ اس قانون کے مکمل خاتمے کی حمایت کر چکی ہے، لیکن براين ماسٹ تاحال اس اقدام کی حتمی منظوری دینے سے گریزاں ہیں۔
فوجی پس منظر اور ذاتی قربانیاں
ماسٹ نے امریکی فوج میں 12 برس خدمات انجام دیں۔سنہ 2010ء میں افغانستان کے شہر قندھار میں بارودی سرنگ پھٹنے سے وہ دونوں ٹانگوں اور بائیں ہاتھ کی ایک انگلی سے محروم ہو گئے تھے۔
پیر کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس جانے سے قبل شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے پوچھاکہ "ہم اب دشمن کیوں نہیں رہے؟" جس پر صدر الشرع نے جواب دیا کہ وہ شامی عوام کے لیے ایک پُرامید مستقبل اور امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں"۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ گفتگو اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ براين ماسٹ ممکنہ طور پر سیزر قانون کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کا عارضی فیصلہ
گذشتہ روز امریکی وزارتِ خارجہ نے سیزر قانون کی پابندیوں کو مزید چھ ماہ کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس قانون کو مئی میں پہلی بار معطل کیا گیا تھا، جس کی مدت اب اختتام کے قریب تھی۔
سزر قانون 2019ء میں شام پر اس وقت عائد کیا گیا تھا جب سابق حکومت پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے تھے، خاص طور پر ان تصاویر کے بعد جن میں ہزاروں قیدیوں پر تشدد اور ان کے قتل کے شواہد ملے تھے۔ تاہم 8 دسمبر 2024ء کو سابق شامی رجیم کے خاتمے کے بعد اس قانون کی افادیت اور اس کے منفی معاشی اثرات پر شدید بحث جاری ہے۔